سعودی عرب 1 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 622

وہ کریڈٹ سکور جو آپ کا گھر تک پیچھا کرتا ہے

وہ کریڈٹ سکور جو آپ کا گھر تک پیچھا کرتا ہے

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:25 صبح

حکومت کے کیش لیس اقدام کے جائزے کے اعداد و شمار کے مطابق اب پاکستانی جو رقم وطن بھیجتے ہیں اس کا 92 فیصد ڈیجیٹل طریقے سے پہنچتا ہے۔ اس میں سے تقریباً کچھ بھی بینکوں میں نہیں ٹھہرتا: مالی سال 2020 میں بینکاری نظام میں ہر 100 رقوم نکالنے کے مقابلے میں 16 جمع کرنے والی تھیں اور مالی سال 2025 تک یہ تعداد نو سے بھی کم رہ گئی۔ رقم ایک ایسے نظام کے ذریعے آتی ہے جو اس کا ریکارڈ رکھتا ہے تاہم وہ اسی دن نکال لی جاتی ہے۔

ایک ایسا گھرانہ ہے جس سے میں کبھی نہیں ملی۔ اس کے باوجود میں اس کے پورے مہینے کی تصویر کشی کر سکتی ہوں، کیونکہ یہ رحجان ترسیلاتِ زر کے اعداد و شمار میں لاکھوں مرتبہ درج ہے۔ گوجرانوالہ کی ایک خاتون برسوں سے ان کی چلائی دکان کو ضمانت بنا کر قرض نہیں لے سکتیں، حالانکہ ان کے شوہر، آئیے انہیں ندیم کہہ لیتے ہیں، گذشتہ 11 برس سے ہر ماہ خلیجی ملک سے گھر رقم بھیجتے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک ماہ بھی ناغہ نہیں کیا۔ یہ 132 ترسیلات بنتی ہیں، پہلے سعودی عرب سے اور پھر متحدہ عرب امارات سے اور ہر ایک کا ریکارڈ دونوں طرف موجود ہے۔ لیکن ایک پاکستانی بینک کے نزدیک یہ دونوں اجنبی ہیں۔

عام تصور یہ ہے کہ پاکستانی بینک بیرون ملک سے بھیجی گئی رقم کو تسلیم نہیں کرتے۔ نہیں وہ کرتے ہیں۔ گاڑی کی فنانسنگ میں کئی بینک ترسیلاتِ زر کو باقاعدہ آمدن کے ثبوت کے طور پر قبول کرتے ہیں بشرطیکہ خاندان کے کسی فرد کے اکاؤنٹ میں لگاتار کئی ماہ تک رقوم آتی رہی ہوں۔ حبیب میٹرو تنخواہ دار اور کاروباری صارفین کے لیے ماہانہ قسط کو خالص آمدن کے 40 فیصد تک محدود رکھتا ہے جبکہ ترسیلاتِ زر پر انحصار کرنے والوں کے لیے یہ حد 75 فیصد ہے، یعنی بیرون ملک سے آنے والی رقم کو مقامی تنخواہ سے زیادہ مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ہوم فنانسنگ پراڈکٹ میں کم از کم آمدن کی کوئی شرط بھی نہیں۔ یہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی مصنوعات ہیں، جن میں قرض لینے والا بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوتا ہے اور پاکستان میں موجود رشتہ دار شریک درخواست گزار ہوتا ہے۔ یہاں 11 برس کی ترسیلاتِ زر آمدن شمار ہوتی ہیں۔ یہ آپ کو ایک گاڑی خریدنے کے قابل بنا سکتی ہیں۔

تین اپریل 2025 کو نئی دہلی کی منی مارکیٹ (اے ایف پی)