تہران مذاکرات میں مکہ دفاعی معاہدے پر بھی بات ہوئی: پاکستان
تہران مذاکرات میں مکہ دفاعی معاہدے پر بھی بات ہوئی: پاکستان
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو کہا ہے کہ گذشتہ ماہ تہران میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے دوران مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور علاقائی تعاون مضبوط بنانے کی کوششوں کے ساتھ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدے پر بھی بات چیت ہوئی۔
وزیراعظم کا یہ بیان 26 اکتوبر کو ایرانی قیادت اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔
ان تینوں ممالک نے اگست میں مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں کے باعث علاقائی تنازع وسیع ہونے کے خدشات بڑھ رہے تھے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی سفارتی کوششوں میں شریک رہا ہے۔
خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
تہران میں ہونے والی ملاقات کا مقصد بات چیت کے راستے کھولنا اور مزید فوجی کشیدگی کو روکنا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپنے ابتدائی کلمات کے دوران کہا کہ ’وہاں نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے بلکہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہمارے سہ فریقی معاہدے پر بھی انتہائی مثبت بات چیت ہوئی۔‘
انہوں نے مزید کہا ’اس حوالے سے بھی تہران میں انتہائی مثبت ماحول میں بات چیت ہوئی کہ ہم خطے میں باہمی تعاون کو کس طرح مزید فروغ دے سکتے ہیں۔‘
اکتوبر میں ہوئے مذاکرات میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکی کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن نے ایران کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔
علاقائی تنازع سعودی عرب اور یمن تک پھیلنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ایران اور دفاعی معاہدے میں شامل تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطہ ہوا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس ملاقات کے بعد چاروں ممالک نے علاقائی امن و سلامتی کے معاملات پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ تہران میں دفاعی معاہدے کے حوالے سے کن امور پر بات چیت ہوئی۔
وزیراعظم نے خطے میں عدم استحکام کو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بھی جوڑا اور کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں جبکہ پاکستان صارفین کو اس اضافے کے اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے گذشتہ جمعے کو پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ روکنے کے لیے مقامی آئل ریفائنریوں سے کہا کہ وہ عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں کے دوران حاصل ہونے والے منافع میں سے حصہ ڈالیں، تاکہ اضافی مالی بوجھ صارفین پر منتقل نہ ہو۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے ایندھن پر سبسڈی کے پروگرام سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد مستفید ہوئے ہیں، جس پر اب تک تقریباً 28 ارب روپے (10 کروڑ 10 لاکھ ڈالر) خرچ کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام دسمبر کے آخر تک جاری رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی توانائی کی منڈیوں میں جاری غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر حکومت موسمِ سرما کے دوران مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور دیگر ایندھن کی مناسب فراہمی یقینی بنانے کے لیے مسلسل اجلاس بھی کر رہی ہے۔
