صوبوں کی تشکیل نو کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟
صوبوں کی تشکیل نو کا مقصد کیا ہونا چاہیے؟
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کو وزیر داخلہ محسن نقوی بڑھتی آبادی کا ناگزیر جواب قرار دے رہے ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف اختیارات کی منتقلی کو ضروری کہتے ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کو تاریخی وحدت اور عوامی مرضی کے منافی سمجھتی ہے۔
صوبائی تنظیمِ نو کا معاملہ ہمیشہ ضرورت، شناخت، تاریخ، وسائل اور سیاسی اختیار کے سوالات میں گھِر جاتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا موجودہ ڈھانچہ شہری تک تعلیم، صحت، پانی، صفائی، ٹرانسپورٹ اور تحفظ پہنچا رہا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو بحث صرف نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کی نہیں، اختیار کی تقسیمِ نو کی بھی ہونی چاہیے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ مرکز اور صوبوں کے درمیان اختیار کی کشمکش سے عبارت ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے متعدد شعبے اور وسائل صوبوں کو منتقل کر کے یہ عدم توازن درست کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اختیارات کا سفر اسلام آباد سے نکل کر لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں رک گیا۔ صوبوں نے حاصل شدہ خود مختاری کو اضلاع، تحصیلوں، شہروں اور یونین کونسلوں تک منتقل نہیں کیا۔
یوں وفاقی مرکزیت کی جگہ چار صوبائی مرکزیتوں نے لے لی۔ شہری کے لیے دارالحکومت کا نام تو بدل گیا، ریاست سے فاصلہ کم نہ ہوا۔ اٹھارہویں ترمیم کی روح صوبائی دارالحکومتوں کو طاقت ور بنانا نہیں، حکومت کو عوام کے قریب لانا تھی، اور یہ ہی وعدہ اب بھی ادھورا ہے۔
2023 کی مردم شماری میں پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے زیادہ اور صرف پنجاب کی تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ ہے۔ دوسری جانب بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا تقریباً نصف ہے، جہاں آبادیاں منتشر اور فاصلے طویل ہیں۔ سندھ میں کراچی اور تھر جبکہ خیبر پختونخوا میں پشاور، ضم شدہ اضلاع اور چترال کے انتظامی تقاضے یکساں نہیں۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی 28 ستمبر 2025 کو دبئی انٹرنیشنل سٹیڈیم میں ایشیا کپ 2025 کے ٹوئنٹی 20 فائنل میچ کے اختتام پر میدان میں موجود ہیں (سجاد حسین / اے ایف پی)
