سرائیکی ٹاپ ٹرینڈ گیت ’چھلڑے چھلڑے وال‘ اور کچھ حقائق
سرائیکی ٹاپ ٹرینڈ گیت ’چھلڑے چھلڑے وال‘ اور کچھ حقائق
ان دنوں جہاں ایک طرف پنجاب میں سرائیکی کو محض ایک لہجہ قرار دینے کی بحث اور اس پر احتجاج سوشل میڈیا پر عروج پر ہے، وہیں دوسری طرف سرحد پار انڈیا سے پنجابی زبان کی معروف گلوکارہ سنندر شرما نے سرائیکی کے مشہور و معروف لوک گیت ’چھلڑے چھلڑے وال‘ کو اپنی آواز میں گا کر پاکستان کے سرائیکی لوک گلو کاروں اور شاعروں کو شان دار خراج تحسین پیش کیا ہے۔
انڈین پنجاب میں یہ سرائیکی گیت ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔ سنندر شرما کے بعد اب درجنوں سکھ، ہندو اور مسلمان گلوکار اس گیت کو اپنی اپنی آواز میں گا رہے ہیں اور سرائیکی زبان کی مٹھاس، مٹی کی خوشبو اور شاعری کے سحر کا کھل کر اعتراف کر رہے ہیں۔
سنندر شرما پنجابی موسیقی کی ایک بے مثل گلوکارہ ہیں اور انڈیا سمیت دنیا بھر میں ان کی گائیکی کو بےحد پسند کیا جاتا ہے۔ ان کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں کی جانب سے اس گیت کو خوب پذیرائی ملی تاہم بہت سے دوستوں نے اس گیت کو مختلف سرائیکی گلوکاروں سے منسوب کرنا شروع کر دیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس گیت کی مقبولیت کی وجہ سے وقت کے ساتھ ساتھ اسے متعدد لوک گلوکاروں نے اپنی آواز کی زینت بنایا لیکن اس کے اصل خالق اور تاریخ سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے اصل فنکاروں کا نام پس منظر میں چلا گیا۔
چونکہ میں سرائیکی موسیقی اور ثقافت کی تاریخ کا ایک طالب علم ہوں، اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ اس گیت کے پس پردہ چھپے اصل شاعر اور گلوکار کے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ حق بحقدار رسید کے مصداق انہیں بھی وہ داد اور مقام مل سکے جس کے وہ حقدار ہیں۔
