سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور، اپوزیشن کا بائیکاٹ
سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور، اپوزیشن کا بائیکاٹ
سندھ اسمبلی نے جمعرات کو صوبے کی کسی بھی قسم کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کر لی ہے۔
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نثار احمد کھوڑو کو قرارداد نے قرارداد پیش کی۔ پیپلز پارٹی کے ارکان قراداد کی منظوری پر بینچوں پر کھڑے ہوگئے۔ ارکان نے کتبے اٹھا رکھے جن پر ’سندھ دھرتی ماں‘ کا نعرہ درج تھا۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے اس موقع پر اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔
سندھ اسمبلی میں ایک تحریک التوا پر مباحثے کے بعد پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو نے ایوان میں سپیکر اویس قادر شاہ کی اجازت کے بعد قرارداد پیش کی۔ نثار کھوڑو نے قرارداد پیش کی تو ایوان میں پیپلز پارٹی کے 105 اراکین موجود تھے جبکہ اپوزیشن کا ایک بھی رکن ایوان میں نہیں تھا۔
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث کوئی نئی نہیں، تاہم تازہ اور بھرپور سیاسی بحث گذشتہ دنوں اس وقت دوبارہ شروع ہوئی جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں پاکستان اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامی نظام ناکام ہو چکا ہے اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں پر عوامی سطح پر بحث ہونی چاہیے۔
قرارداد پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خطاب میں کہا کہ سندھ کی جغرافیائی وحدت پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ صوبے کی تقسیم سے متعلق اقدام منتخب ایوان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی تقسیم کی سازشیں قیام پاکستان کے فورا بعد سے شروع ہوگئی تھیں لیکن انہیں ناکام بنیا گیا۔
سندھ اسمبلی کے ایک اجلاس کا منظر (انڈپینڈنٹ اردو)
