پاکستان 23 ستمبر 2026 ⏱ 3 min read 👁 504

سائن لینگویج: جب ہاتھوں کے اشارے زبان بن جائیں

سائن لینگویج: جب ہاتھوں کے اشارے زبان بن جائیں

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 7:26 صبح

کراچی اولڈ سیکریٹریٹ میں ریڑھی لگانے والے عامر کے لیے گاہکوں کی ضروریات سمجھنا روزمرہ کا معمول ہے، لیکن جب کوئی سماعت سے محروم شخص سائن لینگویج میں اپنی ضرورت بتانے آئے تو ہر بات فوراً سمجھنا ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔

عامر کے مطابق بعض اوقات اشاروں میں کہی گئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تو وہ سامنے والے شخص کو کاغذ دے دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی ضرورت لکھ کر بتا سکے۔

یہ بظاہر ایک چھوٹا سا واقعہ ہے، لیکن سماعت سے محروم افراد کے لیے روزمرہ زندگی میں ایسے مواقع عام ہیں، جہاں کسی دکان سے چیز خریدنے، بینک میں کام کروانے، ہسپتال میں اپنی تکلیف بتانے یا کسی نئی جگہ پر اپنی ضرورت سمجھانے کے لیے انہیں دوسروں کی مدد لینا پڑ سکتی ہے۔

سائن لینگویج سماعت سے محروم افراد کے لیے رابطے اور اظہار کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اس زبان کو سمجھنے والے افراد کی محدود تعداد کئی مواقع پر ان کے لیے کمیونیکیشن کی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

سائن لینگویج صرف ہاتھوں کے اشارے نہیں

سائن لینگویج ایک بصری زبان ہے جس میں ہاتھوں کی حرکات، چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات کے ذریعے خیالات، ضروریات اور معلومات کا اظہار کیا جاتا ہے۔

سماعت سے محروم افراد کے لیے یہ زبان رابطے، تعلیم اور اظہار کا اہم ذریعہ ہے، تاہم مشکل اس وقت پیش آتی ہے، جب ان کے سامنے موجود شخص سائن لینگویج سے واقف نہ ہو۔

ایسی صورت میں بات چیت کے لیے کاغذ، موبائل فون یا کسی تیسرے فرد کی مدد لینا پڑ سکتی ہے۔

’سائن لینگویج میں مزید ترقی اور باقاعدہ کرنے کی ضرورت‘

پاکستان ایسوسی ایشن آف ڈیف کے ڈائریکٹر فرحت اقبال کے مطابق پاکستان میں سائن لینگویج کو مزید ترقی دینے کے ساتھ اس کی وکیبلری بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔

فرحت اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’پاکستان سائن لینگویج کو باقاعدہ (سٹینڈرڈائز) کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔‘

ان کے مطابق وفاق نے اس حوالے سے اقدام کیا ہے اور مختلف صوبوں سے سماعت سے محروم افراد کے رہنماؤں کو اکٹھا کرکے سائن لینگویج کو آگے بڑھانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’جب سماعت سے محروم افراد کے رہنما، جو اس زبان کے صارف ہیں، اپنی زبان کو خود سٹینڈرڈائز کریں گے تو یہ زبان مزید آگے بڑھے گی۔‘

کراچی کے ایک خصوصی بچوں کے سکول میں طلبہ اشاروں کی زبان میں بات کرتے ہوئے (ممتاز جمالی/ انپینڈنٹ اردو)