پاکستان 4 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 317

راولپنڈی کی قدیم تہذیب کا دھارا نالہ لئی بمقابلہ انسان

راولپنڈی کی قدیم تہذیب کا دھارا نالہ لئی بمقابلہ انسان

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 7:29 صبح

نالہ لئی کا پانی اس لیے آبادیوں میں داخل ہوتا ہے کیونکہ آبادیاں نالہ لئی میں داخل ہو چکی ہیں۔

یہ مسئلہ ہر سال صرف برسات کے دنوں میں ہی سامنے آتا ہے۔ جیسے ہی پانی اترتا ہے لوگ لئی کو بھول جاتے ہیں اور لئی لوگوں کو بھول جاتی ہے۔ نالہ لئی کی ویڈیوز چند گھنٹوں کے اندر اندر پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بن جاتی ہیں۔ پنجاب کے ایک شہر کا مسئلہ صوبوں کے درمیان بھی بیان بازی کی وجہ بن جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ پنجاب کی ترقی کے سارے دعوے ہوا ہو گئے ہوں۔

جو آج گندا نالہ ہے اور جس میں دونوں شہروں کے سیوریج کا پانی بہہ رہا ہے کبھی یہ پانی شہر کی زندگی ہوا کرتا تھا۔ زندگی اس کے شفاف پانیوں سے ترتیب پاتی اور ہر لمحہ مسکراتی تھی۔  

مارگلہ کی پہاڑیوں میں ایوانِ صدر سے لے کر درۂ مارگلہ جی ٹی روڈ تک سارا پانی اسی نالے سے نکاسی کرتا ہے۔ اس کا آب گیر علاقہ (Catchment Area) تقریباً235  مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے جس میں سے 69 فیصد اسلام آباد میں آتا ہے جبکہ باقی راولپنڈی میں آتا ہے۔ اس کی کل لمبائی 30 کلومیٹر ہے جس میں چھ نالے آ کر گرتے ہیں جن میں سے تین اسلام آباد کے ہیں۔

کٹاریاں پل سے یہ راولپنڈی کی حدود میں داخل ہوتا ہے جہاں سے ہی یہ تباہی کی داستانیں رقم کرتا ہوا پورے راولپنڈی سے گزر کر جی ٹی روڈ پر دریائے سواں میں مل جاتا ہے۔ 1944 کے بعد سے نالہ لئی میں 25 ایسے سیلاب آ چکے ہیں جن میں کافی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ سب سے تباہ کن سیلاب 23 جولائی 2001 میں آیا تھا جب اس کے آب گیر علاقے میں بادلوں کے پھٹنے سے620 ملی میٹر بارش ہوئی تھی جو اب تک ایک ریکارڈ ہے۔ نالہ لئی صرف ایک نالہ نہیں یہ راولپنڈی شہر کی صدیوں پر پھیلی ہوئی پوری ایک تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔

1905 کی اس تصویر میں ایک شخص اپنے گھوڑوں کو نالہ لئی میں پانی پلا رہا ہے اور کناروں پر گھنے درخت نظر آ رہے ہیں (تصویر کو اے آئی سے رنگین بنایا گیا ہے، تصویر بشکریہ علی خان)