پاکستان 17 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 625

پردے کے پیچھے طمانچے

پردے کے پیچھے طمانچے

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:07 صبح

حسن کو اگر مجسم دیکھنا ہو تو فریال گوہر کو دیکھ لیجیے اور اس حسن کے ساتھ اگر کسی کا جوڑ بنتا تھا تو وہ جمال شاہ تھے۔

ایک ایسا ہی جوڑا نعیم بخاری اور طاہرہ سید کا تھا۔ تیسرا جوڑا طاہرہ واسطی اور رضوان واسطی تھے۔ یہ ہمارے بچپن کے تین ایسے کپل تھے کہ ان کو دیکھ کے خواہ مخواہ ہی چاہنے اور چاہے جانے کی خواہش پیدا ہو جاتی تھی۔ اگر ساتھ ایسا ہوتا ہے تو اکیلے کیوں رہا جائے۔

پھر ان میں سے دو جوڑیاں ٹوٹ گئیں۔ جیسے کارنس پہ رکھے کانچ کے دولہا دلہن کے مجسمے میں دراڑ پڑ جائے۔ دکھ ہوا اور بہت دکھ ہوا۔ حسن کے اپنے ہی نمبر ہوتے ہیں۔

پچھلے دنوں جب فریال صاحبہ نے گھریلو تشدد کا ذکر کیا تو ان کے چاہنے والوں کو یوں لگا کہ اس ٹوٹے ہو ئے مجسمے کی کرچیاں چبھ گئی ہوں۔ ہم جن سے محبت کرتے ہیں انہیں شکستہ نہیں دیکھ سکتے۔ کسی کو بھی یقین نہیں آیا اور جمال شاہ نے تردید بھی کی ہے مگر مجھے یقین ہے۔

کئی برس پہلے یو ایم ٹی کے ایک فنکشن پہ جمال شاہ صاحب کو بلایا۔ نفاست، تہذیب اور رکھ رکھاؤ ان پہ ختم ہے۔ اس کے بعد بھی ان سے پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہا لیکن کبھی ایک جملہ بھی ایسا نہیں کہا جس پہ گرفت کی جا سکے۔

فریال گوہر