پشاور سکول واقعہ: ’صبح ہنسی خوشی بیٹا سکول گیا، لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا‘
پشاور سکول واقعہ: ’صبح ہنسی خوشی بیٹا سکول گیا، لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا‘
’صبح بیٹے نے ناشتہ کیا اور مجھ سے جیب خرچ لے کر مسکراہٹ کے ساتھ سکول رخصت ہو گیا، لیکن دکان میں بیٹھا تھا کہ گھر سے کال آ گئی کہ سکول کی چھت گر گئی ہے۔‘
یہ کہنا تھا سعید آباد علاقے سے تعلق رکھنے والے اسداللہ کا، جن کا 10 سالہ بیٹا اور بھتیجا دیر کالونی کے سکول واقعے میں جان سے گئے ہیں، جس میں مجموعی طور پر 35 بچے جان سے چلے گئے ہیں۔
بیٹے اور بھتیجے کے علاوہ مجموعی طور پر ان کے خاندان کے پانچ بچے اس واقعے میں جان سے گئے ہیں، جن کی عمریں آٹھ سے 10 سال کے درمیان ہیں۔
اپنے حجرے میں فاتحہ خوانی کے لیے بیٹھے اسداللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بچے نے صبح ناشتہ کیا اور مسکراہٹ کے ساتھ سکول رخصت ہو گیا، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
15 اکتوبر 2026 کو پشاور کے ایک سکول کی چھت گرنے کے بعد کے مناظر (انڈپینڈنٹ اردو)
