پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی بحث، سیاسی جماعتیں تذبذب کا شکار
پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی بحث، سیاسی جماعتیں تذبذب کا شکار
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیانات پر سیاسی جماعتوں کا ردعمل تو سامنے آ رہا ہے، تاہم تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اگر طاقتور حلقوں نے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل ’ٹھان لی‘ ہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔
حکمران جماعت مسلم لیگ ن نے پارٹی کی سطح پر اب تک کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا، البتہ اس کے وزرا کے بیانات ضرور سامنے آئے ہیں۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اسلام آباد کو الگ صوبہ بنانے کی ابتدائی تجاویز وزیراعظم کو ارسال کرتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علما اسلام ف نے موجودہ صوبوں کی تقسیم کو مسترد کرتے ہوئے معاملہ پارلیمان میں لانے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حامی ہیں، تاہم فوری طور پر نئے یونٹس بنانے کی تجویز کے خلاف ہیں اور اتفاق رائے کو ضروری سمجھتی ہیں۔
رواں ہفتے لاہور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا: ’میں سیٹ پر رہوں یا نہ رہوں، انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔‘
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کو لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کو پارلیمان میں آنا چاہیے۔ بقول بلاول: ’میں اس بارے میں محسن نقوی، جو ایوان میں کم آتے ہیں، ان سے بحث کرنے کو تیار ہوں۔ سسٹم تباہ ہونے کی اصل وجوہات کیا ہیں، ان کا حل کیا ہونا چاہیے، کیونکہ منتخب نمائندے سیمینارز کی بجائے ایوانوں میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔‘
لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ ’مسلم لیگ متحد ہے، اسے تقسیم کرنے والے بہت آئے، لیکن یہ جماعت آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔‘
تاہم نئے صوبوں سے متعلق انہوں نے کوئی واضح موقف نہیں دیا۔ اس بارے میں وزیر اطلاعات پنجاب سے موقف جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی، لیکن اس رپورٹ کی اشاعت تک کوئی جواب نہیں مل سکا۔
البتہ ن لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’جب تک آئین کی مکمل پاسداری نہیں ہوگی، نئے صوبے بنانے سے بھی نظام ٹھیک نہیں ہوگا۔‘
نئے صوبوں کا قیام ممکن ہے؟
سینیئر سیاسی تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی سمجھتے ہیں کہ اصل مقصد نظام میں موجود خرابیاں دور کرنا ہے، جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’صدر آصف زرداری اور نواز شریف کو مل کر دیگر سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے قائم کرنا چاہیے۔ اس کے لیے نئے صوبوں کا قیام ہو یا مضبوط بلدیاتی نظام، اس بارے میں لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔‘
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار سلیم بخاری کہتے ہیں کہ اگر طاقتور حلقوں نے ’ٹھان لی‘ ہے تو نئے صوبوں کا قیام کوئی نہیں روک سکتا۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا: ’ماضی کو ذہن میں رکھیں تو کبھی ایسا نہیں ہوا کہ طاقتور حلقوں نے جو چاہا ہو، وہ نہ ہو سکا ہو، لہٰذا اگر انہوں نے بڑی سیاسی جماعتوں کی طاقت تقسیم کرکے نئے صوبے بنانے کی ٹھان لی ہے، جس کا محسن نقوی کے بیانات سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تو ن لیگ سمیت کوئی سیاسی جماعت مزاحمت نہیں کر سکے گی۔‘
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’اگر پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کے خلاف کھڑی رہی تو ان کا متبادل بھی قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ذریعے تیار کیا جا سکتا ہے۔‘
نئے یونٹس سے نظام بہتر ہو سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں مجیب الرحمٰن شامی نے کہا کہ ’آبادی کے لحاظ سے صوبوں میں انتظامی صورت حال نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی سے بہتر ہو سکتی ہے۔ اگر یونین کونسل تک اختیارات منتقل ہو جائیں تو ہر سندھی، پنجابی یا دوسرے صوبوں کے عام لوگوں کو ہی فائدہ ہوگا، لہٰذا عوامی مسائل کا حل ہر سیاسی جماعت کی ترجیح ہونا چاہیے۔ اس معاملے کو سیاسی نہیں بلکہ انتظامی لحاظ سے دیکھا جائے۔ البتہ اتفاق رائے کے بغیر اس طرح کے معاملات حل نہیں ہوتے بلکہ بگڑ جاتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نئے صوبوں کے معاملے کو نظام میں بہتری سے زیادہ اختیارات کی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔‘
