پاکستان لارڈز ٹیسٹ کیوں ہارا؟
پاکستان لارڈز ٹیسٹ کیوں ہارا؟
لارڈز سے پاکستان کرکٹ کی حسین یادیں وابستہ ہیں۔ کرکٹ کی جنم بھومی لارڈز میں کرکٹ کھیلنا اور دیکھنا ہر ایک کی آرزو ہوتی ہے لیکن موقع کچھ کو ہی ملتا ہے۔
انگلینڈ کا دورہ پاکستان ٹیم کے لیے ہمیشہ مشکل ہوتا ہے کیوں کہ بالکل مختلف صورت حال میں بیٹنگ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی زیادہ تر آسان اور سست پچز پر کھیلتے ہیں جس سے ان کی ٹائمنگ اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ انگلینڈ کی پچز پر اچھی طرح کھیل سکیں۔
ماضی میں ظہیر عباس، ماجد خان، عمران خان، جاوید میاں داد، یونس خان، محمد یوسف وغیرہ لارڈز میں اسی طرح کھیل چکے ہیں جیسے پاکستان میں کھیلتے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ سارے کھلاڑی کاؤنٹی کرکٹ کھیلتے تھے جس سے وہ وہاں کی کنڈیشنز کو سمجھتے تھے۔
دور حاضر کے کھلاڑی کاؤنٹی کرکٹ نہ کھیلنا چاہتے ہیں اور نہ کاؤنٹی ان کو کھلانا چاہتی ہے۔ آج کے کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیل کر صرف پیسہ بنانا چاہتے ہیں جس نے کرکٹ کا حسن دھندلا دیا ہے۔
لارڈز ٹیسٹ
دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران جس قسم کے تبصرے سننے کو ملے اور تبصرہ نگاروں نے جس قسم کی باتیں کی ہیں، اس سے کرکٹ کی دنیا میں بھونچال آگیا ہے۔
بے ربط بولنگ اور معمولی درجے کی بیٹنگ نے ٹیم کو چوتھے درجے کی ٹیم بنا دیا ہے۔ لیڈز ٹیسٹ ہارنے کے بعد ٹیم پر سب کا ہی اعتماد ختم ہوچکا تھا لیکن لارڈز میں یادگار میچز کی بدولت موہوم سی امید تھی کہ شاید پرندے کچھ پرواز کرسکیں۔
ماضی میں پاکستان ٹیم نے لارڈز میں ہمیشہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ 1982 میں مدثر نذر کی بولنگ ہو یا محسن خان کی ڈبل سینچری ہو یا پھر 1992 اور 1996 میں وسیم اکرم کی آل راؤنڈ کارکردگی، ہر بار پاکستان فتح یاب ہوا۔ پھر 2016 میں یاسر شاہ اور 2018 میں محمد عباس کی بولنگ نے پاکستان کو عزت دلائی لیکن وہ سب ماضی تھا۔
پاکستان ٹیم جس طرح شرمناک انداز میں شکست خوردہ ہوئی اس پر کھلاڑیوں کے سوا سب کے سر جھک گئے۔ بیٹنگ، بولنگ، فیلڈنگ اور کوچنگ سب نے ناکامی کا منہ دیکھا۔
لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز 30 اگست 2026 کو انگلینڈ کے اولی رابنسن نے پاکستان کے اذان اویس کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی کامیاب اپیل کی (گلین کرک/اے ایف پی)
