کیا عورتیں واقعی مردوں سے زیادہ شکی مزاج ہیں؟
کیا عورتیں واقعی مردوں سے زیادہ شکی مزاج ہیں؟
یہ ایک انتہائی دلچسپ بحث بن چکی ہے کہ کیا واقعی عورتیں مردوں سے زیادہ شکی القلب واقع ہوئی ہیں؟ کہتے ہیں عورت کی چھٹی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ مرد ابھی کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ عورت کو اندازہ ہوچکا ہوتا ہے کہ ’دال میں کچھ کالا ہے۔‘
مرد اس اندازے کو شک کہتا ہے، عورت اسے تجربہ۔
اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ آج کل شادی شدہ زندگی کا ایک نہایت دلچسپ منظر عام ہوتا جا رہا ہے۔ شوہر کسی تقریب میں ہے، دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہے، کسی سفر پر ہے یا دفتر کی کسی محفل میں شریک ہے۔ اچانک موبائل کا کیمرہ کھلتا ہے اور بیوی کے سامنے پورا منظر پیش کر دیا جاتا ہے۔
’دیکھو، میں کہاں بیٹھا ہوں۔‘
پھر کیمرہ دائیں گھومتا ہے۔
’یہ فلاں صاحب ہیں۔‘
پھر بائیں۔
’یہ ان کی بیگم ہیں۔‘
پھر ذرا پیچھے کا منظر۔
’اور یہ باقی لوگ ہیں۔‘
اگر اتفاق سے کسی دوسری عورت کا چہرہ بھی نظر آجائے تو وضاحت فوراً:
’یہ یہاں کام کرتی ہیں۔‘
یوں شوہر خاوند کم اور اپنی بے گناہی کا چلتا پھرتا ثبوت زیادہ محسوس ہونے لگتا ہے۔
کبھی کبھی تو لگتا ہے مستقبل میں شادی کے ساتھ نکاح نامے کی بجائے روزانہ کی حاضری کا رجسٹر بھی دیا جائے گا۔
صبح: ’میں دفتر پہنچ گیا ہوں۔‘
دوپہر: ’میں ابھی دفتر میں ہوں۔‘
14 فروری 2016 کو کراچی میں ویلنٹائن ڈے کے موقع پر ایک پاکستانی جوڑا ساحل سمندر پر بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے (آصف حسن / اے ایف پی)
