دنیا 11 اکتوبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 203

کراچی کی تنگ گلیوں سے فلمی پردے تک: تین ریپرز کی کہانی

کراچی کی تنگ گلیوں سے فلمی پردے تک: تین ریپرز کی کہانی

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:45 شام

کراچی کے علاقے گِزری کی گلیوں میں دن کے وقت تین نوجوان اپنے روزگار میں مصروف رہتے ہیں، لیکن رات ہوتے ہی یہی نوجوان مائیک تھام کر اپنے علاقے، زندگی، مشکلات اور خوابوں کو ریپ کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔

ایم سی آفو، ایم سی شو بی اور ایم سی ببلے کی زندگی پر بننے والی دستاویزی فلم ’ڈبلیو آر اے پی‘ (وی رئیلی آر پاکستان) اسی سفر کی کہانی ہے، جس کی ہدایت کاری صبا کریم خان نے کی ہے۔

فلم میں کراچی کے ریپ میوزک منظرنامے کے ساتھ ان تینوں نوجوانوں کی ذاتی زندگی، روزگار، گِزری سے تعلق اور موسیقی کے ذریعے آگے بڑھنے کی جدوجہد دکھائی گئی ہے۔

’گلی بوائے‘ سے گِزری تک

فلم کی ہدایت کار صبا کریم خان کے مطابق انہیں پاکستان کے ریپ منظرنامے پر ڈاکیومنٹری بنانے کا خیال انڈین فلم ’گلی بوائے‘ دیکھنے کے بعد آیا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے بہت عرصہ پہلے گلی بوائے فلم دیکھی اور اس سے بہت متاثر ہوئی۔ میں نے سوچا کہ پاکستان میں بھی یقیناً اردو ریپ کا کوئی سین ہوگا، جہاں لوگ اپنی زبان میں موسیقی بنا رہے ہوں گے۔‘

ریپرز پر بننے والی دستاویزی فلم ’ڈبلیو آر اے پی ان کے سفر کی کہانی ہے (ممتاز جمالی/انڈپینڈنٹ اردو)