پاکستان 28 اگست 2026 ⏱ 2 min read 👁 821

اسلام آباد کے چراغ تلے اندھیرا؟

اسلام آباد کے چراغ تلے اندھیرا؟

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 7:22 صبح

پاکستان میں عام رجحان ہے کہ اپنے احتساب یا اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے کی بجائے ہمیشہ دوسروں کی کارکردگی میں نقائص ڈھونڈے جاتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال وزیر داخلہ محسن نقوی ہیں جو کہ ہر کام میں مہارت کے اگلے درجے پر فائض نظر آتے ہیں، چاہے خارجہ پالیسی مسائل ہوں یا کرکٹ کا میدان، ابلاغیات کے ادارے، دہشت گردوں کے خلاف جنگ یا اسلام آباد میں انڈر پاسز کی تعمیر, یہ ہر میدان میں آگے نظر آتے ہیں۔

انہیں کرکٹ ٹیم کی، جس کے بورڈ کے وہ سربراہ ہیں، حالیہ افسوس ناک کارکردگی میں کرکٹ کے نظام کی تباہی نہیں دکھائی دیتی۔ لیکن جس سیاسی نظام کا وہ خود ایک بڑا حصہ ہیں اور اسے چلانے میں ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس میں انہیں اپنے یا کسی کے سیاسی مفادات کی وجہ سے تباہی کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

ان کے زیر قیادت اسلام آباد کو انتظامی طور پر چلانے والا ادارہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی کارکردگی پر کھل کر عوام کی جانب سے تنقید ہو رہی ہے لیکن انہیں اس کی کارکردگی بہتر کرنے میں بظاہر کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ اس کی بجائے وہ پورے ملک کے سیاسی نظام اور آئینی ترتیب کو درست کرنے کی باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔

ان کے زیر انتظام سی ڈی اے کے نئے منصوبے مارگلہ انکلیو نے علاقے کے ہزاروں رہائشیوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ بظاہر یہ ایک غیر سوچا سمجھا منصوبہ لگتا ہے جس نے زون فور کے مضافاتی علاقے کو نہ صرف ماحولیاتی نقصان سے دو چار کیا ہے بلکہ غیر ضروری طور پر ہزاروں لوگوں کے کو اپنے گھروں سے دربدر ہونے پر بھی مجبور کیا۔

سابق سفیر آصف درانی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں سفر کرنے والوں کی مشکلات کا احاطہ کیا۔

اسلام آباد کے پارک روڈ کا 26 اگست 2026 کا ایک منظر جس پر کیچڑ، دھول اور کھڈے سفر کرنے والوں کے لیے وبال جان بن گئے ہیں (تصاویر: عاقل ندیم)