دنیا 10 ستمبر 2026 ⏱ 2 min read 👁 746

21 سالہ شرجیل سنی کا اٹک کے کالج گراؤنڈ سے ہاکی کے عالمی کوچ تک کا سفر

21 سالہ شرجیل سنی کا اٹک کے کالج گراؤنڈ سے ہاکی کے عالمی کوچ تک کا سفر

📰 انڈیپنڈنٹ اردو 🕐 6:59 صبح

اٹک کے 21 سالہ ہاکی کوچ شرجیل سنی نے انتہائی کم عمری میں عالمی ہاکی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر نہ صرف اپنے شہر بلکہ پاکستان کا نام بھی روشن کر دیا ہے۔

کالج کے ہاکی گراؤنڈ سے شروع ہونے والا ان کا سفر ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں پاکستان کی نمائندگی سے ہوتا ہوا بین الاقوامی کوچنگ تک پہنچا، جہاں انہیں نیدرلینڈز، بیلجیئم اور جرمنی میں منعقد ہونے والے ورلڈ ہاکی کیمپ 2026 میں بطور ٹرینر خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔

شرجیل سنی نے انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو میں اپنے ہاکی کے سفر کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کالج کے دنوں میں ان کے فزیکل ٹیچر اور معروف انٹرنیشنل ہاکی امپائر کامران حسین نے ان کی صلاحیتوں کو پہچانا اور ہاکی کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے بھرپور رہنمائی فراہم کی۔

شرجیل کے مطابق انہوں نے محنت اور لگن سے کھیل میں اپنی جگہ بنائی اور پاکستان ایجوکیشن بورڈ کی جانب سے سلیکشن کے بعد ملائیشیا میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا۔ اگلے ہی سال انہیں تھائی لینڈ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔

بطور کھلاڑی بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے کے بعد شرجیل سنی نے اپنے کیریئر کا رخ کوچنگ کی جانب موڑ دیا۔ اس مرحلے پر ایشین ہاکی فیڈریشن کے ڈائریکٹر اور ورلڈ ہاکی فیڈریشن سے وابستہ اٹک سے تعلق رکھنے والے زاہد علی خان نے ان کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔

شرجیل سنی زاہد علی خان کو اپنا مینٹور اور رول ماڈل قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کوچنگ کے میدان میں قدم رکھنے کے بعد انہوں نے مسلسل سیکھنے اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر توجہ دی۔

شرجیل سنی کا کہنا ہے کہ ان کا ہاکی سفر ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے تاہم عزائم بلند ہیں (ندیم حیدر/ انڈپینڈنٹ اردو)