۱. منکرینِ قیامت کا اعتراض اور قرآنی جواب
مکہ مکرمہ کے سردار مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا تمسخر اڑاتے تھے۔ وہ پرانی بوسیدہ ہڈیاں اٹھا کر لاتے اور انہیں اپنی انگلیوں سے مسل کر راکھ کی طرح ہوا میں اڑاتے ہوئے کہتے کہ جب یہ ہڈیاں گل سڑ کر خاک میں مل گئیں تو کون ہے جو انہیں دوبارہ جمع کرے گا؟
اس اعتراض پر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
«أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ»
"کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کر سکیں گے؟ کیوں نہیں! ہم تو اس کی انگلیوں کے پوروں تک کو ہو بہو درست کر دینے پر قادر ہیں۔” (سورۃ القیامۃ: ۳-۴)
۲. لفظ «بَنَانَهُ» کی فکری اہمیت
عربی میں «بَنَان» انگلی کے بالکل آخری پور (Fingertip) کو کہتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کفار کا سوال بڑی ہڈیوں کے جمع ہونے کے متعلق تھا، تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں انسان کے پورے جسم، کھوپڑی، یا دل کا ذکر کرنے کے بجائے انگلیوں کے انتہائی چھوٹے سرے یعنی پوروں کی درستی پر زور کیوں دیا؟
۳. فنگر پرنٹس کی سائنسی تاریخ
انیسویں صدی کے اواخر تک انسان کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ انگلیوں کے پوروں پر موجود لکیریں دنیا میں ہر انسان کی الگ اور منفرد شناخت ہیں۔
۱۸۸۰ء میں سر ولیم ہرشل اور ڈاکٹر ہینری فالڈز نے پہلی بار سائنسی مقالوں میں ثابت کیا کہ فنگر پرنٹس زندگی بھر کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ ۱۸۹۲ء میں چارلس ڈارون کے کزن سر فرانسس گالٹن (Sir Francis Galton) نے ریاضیاتی بنیاد پر ثابت کیا کہ دنیا میں کسی بھی دو انسانوں کے فنگر پرنٹس کے یکساں ہونے کا امکان **۶۴ ارب میں سے صرف ایک** ہوتا ہے، یعنی روئے زمین کی کل انسانی آبادی سے بھی کہیں زیادہ ناممکن!
ماں کے پیٹ میں چوتھے ماہ میں بننے والے یہ پرنٹس مرتے دم تک اور قبر میں گلنے سڑنے تک قائم رہتے ہیں۔
۴. حشر کے دن کامل ترین شناخت کا معجزہ
قرآن نے چودہ سو سال قبل یہ اعلان کر دیا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ صرف انسان کی بڑی ہڈیاں اکٹھی کرے گا، بلکہ انسان کے فنگر پرنٹس کی وہ باریک ترین اور پیچیدہ لکیریں جو اس کی انفرادی شناخت ہیں، ان کو بھی ذرہ برابر فرق کے بغیر ویسا ہی بحال کر دے گا جیسا کہ وہ دنیا میں تھیں۔