۱. نکاح کو آسان بنائیں ورنہ معاشرہ گناہ کی دلدل میں ڈوب جائے گا
اسلام نے نکاح کو اتنا آسان بنایا تھا کہ مسجد میں دو گواہوں کی موجودگی، ایجاب و قبول اور ایک مختصر خطبہ کے ساتھ نکاح مکمل ہو جاتا تھا۔ لیکن آج ہم نے ہندوانہ رسومات اور مغربی دکھاوے کو اپنا کر شادی کو لاکھوں کروڑوں کا سودا بنا دیا ہے۔ مہندی، مائیوں، جہیز کی لسٹوں اور شاہانہ ہالوں کے اخراجات نے ہزاروں شریف بیٹیوں کے سروں میں چاندی اتار دی ہے۔
۲. مہرِ فاطمی کا فلسفہ اور پیمانہ
رسول اللہ ﷺ نے اپنی لختِ جگر، سیدۃ نساء اہل الجنہ حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا، تو مہر ۵۰۰ درہم (چاندی کے سکے) مقرر کیا گیا۔
جدید اوزان کے مطابق ۵۰۰ درہم چاندی تقریباً ۱۳۱ تولہ ۳ ماشہ (تقریباً ۱۵۳۰ اعشاریہ ۹ گرام خالص چاندی) بنتی ہے۔ یہ ایک انتہائی معتدل اور باوقار رقم ہے جسے ہر متوسط مسلمان ادا کر سکتا ہے۔
۳. مہرِ معجل اور مؤجل کی شرعی حقیقت
ہمارے معاشرے میں مہر کو صرف کاغذ پر لکھی ہوئی ایک رسمی رقم سمجھا جاتا ہے جسے طلاق کی صورت میں ہی ادا کیا جاتا ہے۔ یہ شرعاً سخت غلط ہے۔ مہر عورت کا فوری حق ہے جسے نکاح کے فورا بعد ادا کرنا مستحب (معجل) ہے، اور اگر مؤجل (ادھار) ہو تو شوہر کی نیت اسے جلد از جلد ادا کرنے کی ہونی چاہیے ورنہ وہ گناہ گار ہو گا۔
۴. ولیمہ: مسنون دعوت
نکاح کے بعد شوہر کی طرف سے اپنی بساط کے مطابق دوستوں اور رشتہ داروں کو کھانا کھلانا مسنون ولیمہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ» (ولیمہ کرو خواہ ایک بکری ہی کیوں نہ ہو)! (صحیح بخاری: ۲۰۴۸)۔ یاد رہے کہ وہ ولیمہ بدترین ولیمہ ہے جس میں صرف امیروں کو بلایا جائے اور غریبوں و ناداروں کو دھتکار دیا جائے۔