ہم سب اپنی روزمرہ زندگی میں وقت کو گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ ایک جیسا گزرتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ لیکن بیسویں صدی کے عظیم ترین سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے دنیا کے سامنے ایک ایسا انقلابی سچ رکھا جس نے حقیقت کے بارے میں انسانی سوچ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ وقت کوئی جامد یا آفاقی دریا نہیں ہے جو سب کے لیے برابر بہتا ہو؛ بلکہ وقت کی رفتار کا سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ آپ خلا میں کتنی تیز رفتاری سے سفر کر رہے ہیں!
روشنی کی رفتار: کائنات کی ناقابلِ عبور حد
خلا کے خلا میں روشنی کی رفتار 299,792 کلومیٹر فی سیکنڈ (تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ یا 186,000 میل فی سیکنڈ) ہے۔ یہ کائنات میں معلومات، روشنی اور مادہ کے سفر کرنے کی حتمی سپیڈ لمٹ (Cosmic Speed Limit) ہے۔ اس سے تیز کائنات میں کوئی چیز حرکت نہیں کر سکتی۔ جیسے ہی کسی مادہ رکھنے والی چیز کو تیز کیا جائے، اضافیت کے مطابق اس کی کمیت (Mass) بڑھنے لگتی ہے، اور روشنی کی رفتار تک پہنچنے کے لیے لامحدود توانائی کی ضرورت ہو گی جو کہ ممکن نہیں۔
ٹائم ڈائیلیشن اور جڑواں بھائیوں کا پیراڈاکس (Twin Paradox)
آئن سٹائن کا سب سے شاندار تحفہ «ٹائم ڈائیلیشن» (Time Dilation) کی مساوات ہے۔ فرض کریں دو جڑواں بھائی ہیں جن کی عمر 20 سال ہے۔ ایک بھائی زمین پر رکتا ہے جبکہ دوسرا ایک جدید خلائی جہاز میں بیٹھ کر روشنی کی رفتار کے 99.9 فیصد پر 5 سال کا خلائی چکر لگا کر واپس آتا ہے۔ جب وہ زمین پر اترے گا تو اس کے لیے جہاز کی گھڑی کے مطابق صرف 5 سال گزرے ہوں گے اور اس کی عمر 25 سال ہو گی۔ لیکن زمین پر وقت کی رفتار اتنی تیز تھی کہ زمین پر موجود اس کا بھائی بوڑھا ہو کر 70 سال کا ہو چکا ہو گا اور اس کے پوتے پوتیاں کھیل رہے ہوں گے!
«یہ کوئی خیالی کہانی نہیں ہے؛ آپ کے موبائل کا جی پی ایس (GPS) سسٹم سیٹلائٹ کے تیز سفر کی وجہ سے روزانہ چند مائیکرو سیکنڈز کی اس ٹائم ڈائیلیشن کو خود ایڈجسٹ کرتا ہے ورنہ لوکیشن غلط ہو جائے۔»
روشنی کے ذرے کا لافانی لمحہ
اگر آپ خود ایک فوٹون (روشنی کا ذرہ) بن جائیں تو آپ کی دنیا کیسی ہو گی؟ چونکہ فوٹون روشنی کی رفتار پر سفر کرتا ہے، اس لیے اس کے فریم آف ریفرنس میں وقت بالکل صفر ہو جاتا ہے اور تمام فاصلے سکڑ کر صفر ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ابتدا (بگ بینگ) کے وقت بننے والا ایک فوٹون جب 13.8 ارب سال کا کائناتی سفر طے کر کے آج آپ کی آنکھ کی پتلی سے ٹکراتا ہے، تو اس کے اپنے احساس کے مطابق اس کے بننے اور آپ کی آنکھ میں داخل ہونے کے درمیان ایک سیکنڈ کا بھی وقفہ نہیں گزرا۔ وہ اسی لمحے پیدا ہوا اور اسی لمحے جذب ہو گیا!