20 جولائی 1969ء کو جب امریکی خلاباز نیل آرمسٹرانگ نے اپالو 11 کے قمری ماڈیول کی سیڑھیوں سے اتر کر چاند کی بنجر سطح پر اپنا بایاں پاؤں رکھا تھا، تو انہوں نے کہا تھا: "یہ انسان کا ایک چھوٹا سا قدم ہے مگر انسانیت کے لیے ایک عظیم چھلانگ ہے"۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ نیل آرمسٹرانگ اور ان کے ساتھی بز الڈرن کے چاند پر چھوڑے گئے وہ قدموں کے نشانات آج 57 سال گزرنے کے بعد بھی ویسے ہی تازہ ہیں، اور اگلے لاکھوں سال تک مٹ نہیں سکیں گے؟
زمین بمقابلہ چاند: کٹاؤ کے نظام کی عدم موجودگی
زمین پر اگر آپ ریتلے ساحل یا کیچڑ میں قدم رکھیں تو چند گھنٹوں میں ہوا کی لہریں یا سمندر کی موجیں اس نشان کو مکمل مٹا دیتی ہیں۔ زمین پر چٹانوں اور نشانات کو گھسنے کے لیے تین چیزیں کام کرتی ہیں: ہوا (Wind)، پانی (Water)، اور حیاتیاتی زندگی (Life)۔ لیکن چاند پر ان تینوں میں سے کسی ایک کا بھی سرے سے کوئی وجود نہیں ہے!
مکمل ویکیوم اور شیشے جیسی مٹی
چاند کا اپنا کوئی ایٹماسفیئر (فضا) نہیں ہے جس کی وجہ سے درج ذیل حقائق پیدا ہوتے ہیں:
- ہوا کا نہ ہونا: چاند پر ہوا کا ایک جھونکا بھی نہیں چلتا جو ریت کو اڑا کر گڑھے بھر سکے۔
- بارش اور بادلوں کی عدم موجودگی: چاند پر کبھی پانی کی ایک بوند نہیں برسی جو مٹی کو بہا سکے۔
- تیز دھار مٹی (Lunar Regolith): چاند کی مٹی گول نہیں بلکہ شیشے کی طرح باریک اور نوکیلی ہے، جب خلاباز کا بوٹ اس پر دباؤ ڈالتا ہے تو وہ مٹی سانچے کی طرح مستقل اسی شکل میں جم جاتی ہے۔
"چاند پر مٹی کے کٹاؤ کی واحد وجہ خوردبینی شہابیے ہیں، اور ان کی رفتار اتنی دھیمی ہے کہ ایک جوتے کے نشان کو مٹانے میں تقریباً 1 سے 2 کروڑ سال کا وقت لگے گا!"
تاریخ کا لازوال کائناتی میوزیم
نہ صرف نیل آرمسٹرانگ اور 12 امریکی خلانوردوں کے قدموں کے نشانات، بلکہ اپالو مشنز کے دوران چھوڑی گئی قمری گاڑیوں (Lunar Rovers) کے ٹائروں کے ٹریکس، امریکی پرچموں کے نچلے پائپ، سائنسی تجربات کے آلات اور خلانوردوں کے پھینکے گئے کیمرے آج بھی چاند پر بالکل اسی پوزیشن میں رکھے ہوئے ہیں جیسے کل ہی رکھے گئے ہوں۔ جب تک کوئی بڑا شہابیہ براہِ راست اس پر نہ گرے، یہ نشانات زمین پر انسانیت کے مٹنے کے بعد بھی چاند پر چمکتے رہیں گے۔