کیا آپ جانتے ہیں؟ ⏱️ مطالعہ کا وقت: 4 منٹ انسانی عضو

کیا آپ جانتے ہیں؟ — انسانی آنکھ کی ریزولوشن 576 میگا پکسل ہے اور یہ 1 کروڑ رنگ پہچان سکتی ہے!

سائنسی نام: Optical Sensory System

دنیا کا کوئی بھی جدید ڈیجیٹل کیمرہ انسانی آنکھ کی لچک، فوکس اسپیڈ اور رنگوں کے تنوع کا مقابلہ نہیں کر سکتا

تحقیق و ادارت: اردو کوریج سائنسی ڈیسک • مستند بین الاقوامی حوالہ جات و جریدہ
💡

اہم ترین حقائق و خلاصہ (Key Highlights)

  • ✦ ڈاکٹر راجر کلارک کی تحقیق کے مطابق اگر انسانی آنکھ ڈیجیٹل کیمرہ ہوتی تو اس کی فیلڈ آف ویو کی ریزولوشن 576 میگا پکسل بنتی۔
  • ✦ انسانی ریٹینا میں 12 کروڑ راڈز اور 70 لاکھ کونز ہیں جو انسان کو 1 کروڑ (10 ملین) مختلف شیڈز دیکھنے کے قابل بناتے ہیں۔
  • ✦ آنکھ کے پٹھے جسم کے سب سے تیز ترین متحرک پٹھے ہیں جو ہر سیکنڈ میں 3 بار آنکھ کو مائیکرو فوکس کرتے ہیں۔

آج کل مارکیٹ میں 50، 108 یا 200 میگا پکسل کے کیمروں والے اسمارٹ فونز کا خوب چرچا ہے جن کی قیمتیں لاکھوں روپے ہوتی ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ آپ کے اپنے چہرے پر لگی وہ دو آنکھیں جن سے آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں، کیمرے کی اصطلاح میں کتنے میگا پکسل کی صلاحیت رکھتی ہیں؟ سائنس کے مطابق انسانی آنکھ اور دماغ کا مشترکہ آپٹیکل سسٹم 576 میگا پکسل کے شاہکار کیمرے کے برابر ہے۔

576 میگا پکسل کا سائنسی حساب کتاب

معروف سائنسدان اور ماہرِ فلکیات ڈاکٹر راجر کلارک (Dr. Roger Clark) نے انسانی بصارت کے میدان (Field of View) اور ریٹینا کے فوٹو ریسیپٹرز کا باریک حسابی تجزیہ کیا۔ انسانی آنکھ ایک لمحے میں تقریباً 120 سے 180 ڈگری کا زاویہ دیکھتی ہے۔ اس پورے بصری میدان میں کسی ایک بھی پکسل کو دھندلا نہ رہنے دینے کے لیے انسان کو تقریباً 576 ملین پکسلز (576 Megapixels) کی لائیو ریزولوشن درکار ہوتی ہے۔

13 کروڑ نینو سینسرز اور 1 کروڑ رنگ

آنکھ کے پچھلے پردے یعنی ریٹینا (Retina) پر قدرت نے دنیا کے جدید ترین نانو سینسرز بچھا رکھے ہیں:

  • 12 کروڑ راڈز (Rods): یہ خلیات انتہائی مدھم روشنی اور اندھیرے میں حرکت اور اشکال کو پکڑتے ہیں۔
  • 70 لاکھ کونز (Cones): یہ خلیات دن کی تیز روشنی میں رنگوں کو پروسیس کرتے ہیں جن کی بدولت ہم 1 کروڑ (10 ملین) مختلف رنگین شیڈز کے درمیان فرق کر سکتے ہیں۔
"آپ کی آنکھ کا لینز کسی بھی کیمرے کے لینز سے لاکھوں گنا زیادہ تیز ہے؛ یہ ایک لمحے میں قریب کی کتاب سے لے کر میلوں دور چاند پر پلک جھپکتے ہی فوکس بدل لیتا ہے۔"

دماغ کا لائیو امیج پروسیسر

سب سے کمال بات یہ ہے کہ آنکھ کے ریٹینا پر بننے والی تصویر دراصل الٹی ہوتی ہے! آپٹک نرو (Optic Nerve) کے لاکھوں فائبرز اس الٹی تصویر کا برقی ڈیٹا سیکنڈ کے تیرہویں حصے میں دماغ کے بصری مرکز (Visual Cortex) کو بھیجتے ہیں، جہاں دماغ فوری طور پر تصویر کو سیدھا کرتا ہے، دونوں آنکھوں کی تصاویر کو ملا کر تھری ڈی گہرائی پیدا کرتا ہے اور بلائنڈ اسپاٹ کو خود بخود بھر دیتا ہے۔

یہ معلوماتی مضمون شیئر کریں: