ہم جب آئینے میں خود کو دیکھتے ہیں تو گوشت پوست کا ایک عام انسان نظر آتے ہیں، مگر اس جسم کے خلیاتی نظام کے اندر قدرت نے جو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ سمو رکھی ہے، اس کے اعداد و شمار پر ہوش اڑ جاتے ہیں۔ ہمارے وجود کا ہر ایک خلیہ زندگی کی کتاب "ڈی این اے" (DNA) کا حامل ہے، جس کی لمبائی زمین سے آسمانوں کے فاصلوں کو ناپ سکتی ہے۔
ایک خلیے میں 2 میٹر لمبا دھاگہ!
انسانی جسم کا ایک عام خلیہ اتنا چھوٹا ہوتا ہے کہ اسے عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ لیکن اس ننھے سے خلیے کے مرکزے (Nucleus) کے اندر 46 کروموسومز میں لپٹا ہوا ڈی این اے موجود ہوتا ہے۔ اگر ایک خلیے کا ڈی این اے باہر نکال کر اس کے پیچ کھول کر سیدھا کھینچا جائے تو اس کی لمبائی تقریباً 2 میٹر (6.5 فٹ) لمبی بنتی ہے، یعنی ایک لمبے قد کے انسان سے بھی زیادہ لمبی تار!
پورے جسم کے ڈی این اے کی کائناتی لمبائی
اب حساب لگائیے کہ انسانی جسم میں تقریباً 37.2 کھرب (37 Trillion) خلیات پائے جاتے ہیں:
- اگر آپ اپنے جسم کے تمام خلیات کا ڈی این اے نکال کر ایک سرے سے دوسرے سرے تک جوڑیں تو اس دھاگے کی لمبائی تقریباً 100 ارب کلومیٹر سے زیادہ ہو گی۔
- یہ فاصلہ اتنا ہے کہ آپ زمین سے سورج تک (جو 15 کروڑ کلومیٹر دور ہے) 300 سے زائد مرتبہ جا کر واپس آ سکتے ہیں!
- یہ ڈوری زمین سے پلوٹو سیارے تک پہنچ کر بھی ختم نہیں ہو گی۔
"انسانی ڈی این اے کی پیکنگ اتنی شاندار ہے کہ نظامِ شمسی کے چکر لگانے والی ڈوری ایک رائی کے دانے سے بھی کروڑوں گنا چھوٹی جگہ میں سما جاتی ہے۔"
ہسٹون پروٹینز کی نینو پیکنگ
یہ دیو قامت ڈوری ایک خوردبینی خلیے میں کیسے سمٹتی ہے؟ قدرت نے اس کے لیے "ہسٹون" (Histone Proteins) نامی نینو رولرس رکھے ہیں جن کے گرد ڈی این اے کا دھاگہ باریک طریقے سے بل کھا کر سپر کوائل (Supercoil) بناتا ہے۔ اس میں 3.2 ارب جینیاتی حروف (A, T, C, G) لکھے ہیں جو آپ کی آنکھوں کے رنگ، دل کی دھڑکن اور خون کے ایک ایک خلیے کے بننے کا مکمل نسخہ سموئے ہوئے ہیں۔