قرآن مجید کی سورۃ الغاشیہ میں اللہ رب العزت نے کائنات کے عظیم مظاہر کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے انسان کو جھنجھوڑا: "أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ" (کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ اسے کیسا عجیب پیدا کیا گیا ہے؟)۔ جدید حیوانیات (Zoology) نے ثابت کیا ہے کہ اونٹ کی جسمانی بناوٹ کا ہر ایک عضو صحرا کی ہولناک گرمی میں زندہ رہنے کے لیے بنایا گیا ایک سائنسی شاہکار ہے۔
کوہان کی حقیقت اور پانی کا معجزہ
لوگ سمجھتے ہیں کہ اونٹ کی کوہان پانی کا مشکیزہ ہے، جبکہ درحقیقت وہ چربی (Fat) کا ذخیرہ ہے۔ اگر یہ چربی پورے جسم پر پھیلی ہوتی تو اونٹ گرمی سے تپ کر مر جاتا، مگر قدرت نے چربی کو صرف پیٹھ کے اوپر ایک تھیلے میں جمع کر دیا تاکہ باقی جسم ٹھنڈا رہ سکے۔ جب اونٹ کو صحرا میں ہفتوں کھانا پانی نہیں ملتا تو وہ اسی چربی کو میٹابولزم کے ذریعے پانی اور کیلوریز میں بدلتا ہے۔
کانٹے چبانے والے ربڑ کے ہونٹ اور ریتیلے تلوے
- فولادی منہ: اونٹ کے ہونٹ اتنے موٹے اور لچکدار ربڑ جیسے ہوتے ہیں کہ وہ کیکر اور ببول کے 4 انچ تیز کانٹوں کو چبا جاتا ہے اور اس کے منہ سے خون کا ایک قطرہ نہیں نکلتا۔
- قدرتی تلوے (Cushioned Pads): اونٹ کے پاؤں میں دو چوڑے پنجے ہوتے ہیں جو ریت پر پڑتے ہی پھیل جاتے ہیں، جس کی وجہ سے سینکڑوں کلو وزنی اونٹ نرم ریت میں دھنسے بغیر گھوڑے سے زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے۔