بیر وٹامن سی کا ایسا نایاب دیسی پھل ہے جس میں مالٹے سے کہیں زیادہ ایسکوربک ایسڈ پایا جاتا ہے۔ یہ جگر کے انزائمز کو ٹھنڈک دیتا ہے، خون کے زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے اور اس میں موجود سیپوننز دماغ کو گہری، پرسکون نیند فراہم کرتے ہیں۔
| غذائی جزو (Nutrient) | فی 100 گرام مقدار | روزانہ کی ضرورت (DV%) |
|---|---|---|
| توانائی (Calories) | 79 kcal | 4% |
| وٹامن سی (Vitamin C) | 69 mg | 115% |
| غذائی فائبر (Dietary Fiber) | 10 g | 40% |
| پوٹاشیم (Potassium) | 250 mg | 7% |
| کیلشیم و فاسفورس | وافر مقدار | ہڈیوں کی مضبوطی |
| آئرن (Iron) | 0.5 mg | 3% |
| سیپوننز و فلیوونائڈز | اعلیٰ ارتکاز | اعصابی سکون اور نیند |
| پروٹین (Protein) | 1.2 g | 2.4% |
بیر کی قدیم دیسی شناخت اور شفا بخش پس منظر
بیر (Jujube / Red Date) کا نباتاتی نام Ziziphus mauritiana ہے۔ یہ برصغیر پاک و ہند اور مشرقِ وسطیٰ کا ایک روایتی پھل ہے جس کا تذکرہ قرآنی آیات (سدرۃ المنتہیٰ) اور احادیثِ مبارکہ میں بھی ملتا ہے۔ بیر کو روایتی طب میں خون صاف کرنے والا تریاق مانا گیا ہے، جبکہ جدید بائیو کیمسٹری نے ثابت کیا ہے کہ اس چھوٹے سے پھل میں مالٹے کے مقابلے میں دو گنا زیادہ وٹامن سی اور اینٹی آکسیڈنٹس بھرے ہوتے ہیں۔
1. وٹامن سی کا انبار اور فولادی قوتِ مدافعت
صرف 100 گرام تازہ بیر روزانہ کی وٹامن سی کی 100 فیصد سے زیادہ ضرورت پوری کر دیتے ہیں۔ یہ سفید خلیات (WBCs) کی پیداوار کو تحریک دیتا ہے، اینٹی باڈیز کی تشکیل تیز کرتا ہے اور موسمی نزلہ زکام اور وائرل فلو کے خلاف جسم کے مدافعتی قلعے کو ناقابلِ تسخیر بنا دیتا ہے۔
2. بے خوابی، ذہنی بے چینی اور ڈپریشن کا قدرتی علاج
بیر کے اندر پائے جانے والے سیپوننز (Saponins) اور پولی سیکرائڈز انسانی دماغ کے گابا (GABA) نیورو ٹرانسمیٹر ریسپٹرز کو پرسکون کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو رات بھر نیند نہیں آتی یا نیند بار بار ٹوٹتی ہے، بیر ان کے دماغی خلیات پر بغیر کسی نشہ آور سائیڈ ایفیکٹ کے گہرا سکون طاری کرتے ہیں۔
3. خون کی اندرونی صفائی اور جگر کے انزائمز کا تحفظ
بیر جگر پر چربی جمنے کو روکتا ہے اور سیرم بائل ایسڈز کے اخراج کو متوازن کرتا ہے۔ خون کے اندر گردش کرنے والے آلودہ ذرات اور فری ریڈیکلز کو بے اثر کر کے یہ جلد پر خارش، پھوڑے پھنسیاں اور الرجی کو ختم کرتا ہے۔
4. نظامِ ہاضمہ اور پرانی قبض کا سدِ باب
بیر میں 10 گرام تک حل پذیر اور غیر حل پذیر فائبر ہوتا ہے جو آنتوں کے فضلے کو نرم کر کے پاخانے کے اخراج کو آسان بناتا ہے اور آنتوں کی سوزش مٹاتا ہے۔
طبی مزاج: پختہ میٹھا بیر پہلے درجے میں معتدل مائل بہ سرد اور تر ہے، جو جسم کی گرمی اور صفراوی حدت کو تسکین دیتا ہے؛ جبکہ کچا ترش بیر سرد خشک ہوتا ہے۔
مصلح (Corrective Pair): بیر کا مصلح شکر، شہد یا ہلکا سا کالا نمک ہے جو اس کے ہاضمے کو تیز کر دیتے ہیں۔
استعمال کا درست طریقہ اور مقدار
دوپہر کے وقت یا کھانے کے درمیان بھوک لگنے پر 10 سے 15 دانے تازہ میٹھے بیر خوب چبا کر کھانا بے حد مفید ہے۔ رات کے وقت خشک عناب کا جوشاندہ بنا کر پینا پرسکون نیند اور کھانسی کے لیے صدیوں پرانا اکسیر ہے۔
احتیاطی تدابیر: کچے، انتہائی کھٹے بیر گلے کی سوزش یا کھانسی کے دوران نہ کھائیں کیونکہ یہ بلغم پیدا کر سکتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریض خشک بیر (عناب) کے میٹھے شربت سے پرہیز کریں اور صرف تازہ معتدل بیر کھائیں۔
