خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
سلطان نور الدین محمود زنگی 17 شوال 511ھ کو موصل میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد عماد الدین زنگی سلجوقی سلطنت کے مقتدر امیر اور زنگی خاندان کے بانی تھے، جنہوں نے صلیبیوں کے خلاف جہاد کا آغاز کیا اور پہلی بار الرہاء (Edessa) کو فتح کر کے عیسائیوں کی پیش قدمی کو روکا۔ نور الدین زنگی کی پرورش انتہائی علمی، عسکری اور پاکیزہ ماحول میں ہوئی۔ بچپن ہی سے انہوں نے قرآن مجید، فقہ، اور حدیث کی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ شہسواری، شمشیر زنی اور جنگی فنون میں کمال حاصل کیا۔ ان کے تقویٰ اور شجاعت کا یہ عالم تھا کہ وہ لڑکپن ہی سے تہجد گزار اور شریعت کے سخت پابند تھے۔
تخت نشینی اور صلیبیوں کے خلاف جہاد
541ھ (1146ء) میں جب ان کے والد عماد الدین زنگی کو شہید کر دیا گیا، تو نور الدین زنگی نے حلب کی باگ ڈور سنبھالی۔ انہوں نے سلطنت کو مستحکم کرنے کے بعد اپنی تمام تر توانائیاں صلیبیوں کے خلاف جہاد اور اسلامی ممالک کے اتحاد کے لیے وقف کر دیں۔ ان کا سب سے بڑا تاریخی کارنامہ بکھری ہوئی اسلامی امارتوں کو ایک پرچم تلے جمع کرنا تھا۔ انہوں نے 1149ء میں ‘معرکہ انب’ میں انطاکیہ کے صلیبی حاکم ریمنڈ کو شکست فاش دی اور اسے واصلِ جہنم کیا۔ اس کے بعد دمشق کو سلطنت کا حصہ بنا کر شام کو ایک مضبوط دفاعی حصار میں تبدیل کر دیا اور مصر کی فاطمی خلافت کے زوال کے بعد وہاں اپنے سپہ سالار شیرکوہ اور صلاح الدین ایوبی کو بھیج کر مصر کو بھی نوری سلطنت کا حصہ بنایا، جس سے بیت المقدس کی آزادی کی راہ ہموار ہوئی۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
سلطان نور الدین زنگی صرف ایک عظیم فاتح ہی نہیں تھے بلکہ ایک عادل حکمران اور زاہدِ شب بیدار بھی تھے۔ تاریخ میں انہیں ‘الملک العادل’ کا لقب دیا گیا۔ انہوں نے دمشق میں ‘دار العدل’ قائم کیا جہاں وہ خود ہفتے میں دو بار عام عوام کی فریاد سننے کے لیے قاضی کے برابر بیٹھتے تھے۔ انہوں نے اسلامی تاریخ کا سب سے پہلا ‘دار الحدیث’ قائم کیا تاکہ احادیثِ نبویہ کی ترویج ہو۔ ان کا ایک اور بڑا تاریخی کارنامہ روضہ رسول ﷺ کی حفاظت ہے۔ جب دو عیسائیوں نے مدینہ منورہ میں سرنگ کھود کر جسدِ اطہر چوری کرنے کی ناپاک کوشش کی، تو رسول اللہ ﷺ نے سلطان کو خواب میں ان کی نشاندہی فرمائی۔ سلطان نے فوراً مدینہ پہنچ کر ان مجرموں کو قتل کیا اور روضہ مبارک کے گرد پگھلے ہوئے سیسے کی مضبوط دیوار قائم کی۔ مسجدِ اقصی کی آزادی کے لیے انہوں نے ایک نہایت خوبصورت منبر تیار کروایا تھا، جسے بعد میں ان کے روحانی فرزند سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتحِ بیت المقدس کے بعد مسجدِ اقصی میں نصب کیا۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
سلطان نور الدین محمود زنگی نے اپنی پوری زندگی جہاد فی سبیل اللہ اور خدمتِ دین میں گزاری۔ 11 شوال 569ھ (15 مئی 1174ء) کو گلے کی ایک سنگین بیماری (انسیہال/خناق) کے باعث دمشق میں آپ کا وصال ہوا۔ آپ کو پہلے دمشق کے قلعے میں سپردِ خاک کیا گیا، بعد میں آپ کی وصیت کے مطابق آپ کی میت کو آپ کے قائم کردہ ‘مدرسہ نوریہ’ میں منتقل کر دیا گیا جو آج بھی زیارت گاہِ خاص و عام ہے۔ مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اگر نور الدین زنگی اسلامی دنیا کو متحد نہ کرتے اور مجاہدین کی ایسی کھیپ تیار نہ کرتے جس میں صلاح الدین ایوبی شامل تھے، تو بیت المقدس کی آزادی ناممکن تھی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ، جلد 9)
- ابو شامہ المقدسی (الروضتین فی اخبار الدولتین النوریہ والصلاحیہ)
- امام ابن کثیر (البدایہ والنہایہ، جلد 12)
- ابن خلکان (وفیات الاعیان وانباء ابناء الزمان)
- امام ذہبی (سیر اعلام النبلاء، طبقه 34)
مبارک اقوال و ارشادات
اللہ کی قسم! میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو معاف فرما دے گا کیونکہ میں اس کے دشمنوں سے برسرِ پیکار ہوں۔
جب تک بیت المقدس فرنگیوں کے قبضے میں ہے، مجھے مسکرانے یا پیٹ بھر کر کھانے سے شرم آتی ہے۔
ہم زمین پر صرف اللہ کے کلمے کی سربلندی اور اس کے دین کے دفاع کے لیے لڑتے ہیں، اپنی ذاتی سلطنت کے لیے نہیں۔
