ائمہ اربعہ و فقہاء کرام

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

« تقي الدين أبو العباس أحمد بن عبد الحليم بن عبد السلام بن عبد الله بن أبي القاسم بن تيمية النُميري الحراني الدمشقي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ 10 ربیع الاول 661 ہجری کو حران (موجودہ ترکی اور شام کی سرحد پر واقع ایک تاریخی شہر) میں علم و فضل کے ایک نامور اور معزز گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان علمی جلالت اور فقہ حنبلی میں امامت کے لیے مشہور تھا۔ تاتاریوں کے وحشیانہ حملوں اور غارت گری کے باعث جب آپ کی عمر محض چھ سال تھی، تو آپ کے والد اپنے کتب خانے اور خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے دمشق آگئے۔ دمشق کے پرامن ماحول میں آپ کی علمی تربیت کا آغاز ہوا۔ آپ کا حافظہ اس قدر بلا کا تھا کہ بچپن میں ہی قرآن مجید حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ بے شمار احادیث، عربی لغت اور فقہی متون زبانی یاد کر لیے۔

علمی سفر، تبحر اور شیوخ

امام ابن تیمیہ نے دمشق کے نامور محدثین اور فقہاء سے علم حاصل کیا۔ آپ کے شیوخ کی تعداد دو سو سے زائد ہے۔ آپ نے نہ صرف روایتی علوم جیسے تفسیر، حدیث، فقہ اور اصول فقہ میں کمال حاصل کیا، بلکہ فلسفہ، منطق، کلام اور دیگر ادیان و مذاہب کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔ آپ کی علمی جلالت کا یہ عالم تھا کہ محض بیس سال کی عمر میں آپ کے شیوخ نے آپ کو فتوے دینے اور تدریس کی اجازت دے دی تھی۔ اپنے والد عبد الحلیم بن تیمیہ کی وفات کے بعد آپ نے دارالحدیث السکریہ میں درس و تدریس کا آغاز کیا، جہاں دمشق کے بڑے بڑے علماء آپ کے دروس میں شریک ہوتے اور آپ کے تبحرِ علمی پر دنگ رہ جاتے۔

نمایاں کارنامے، فتاویٰ اور مجاہدانہ زندگی

امام ابن تیمیہ کا دور فکری انحطاط، بدعات کی کثرت اور بیرونی حملوں کا دور تھا۔ آپ نے بیک وقت کئی محاذوں پر کام کیا۔ فکری محاذ پر آپ نے فلسفہ، منطق اور یونانی افکار کے اسلام پر اثرات کا ابطال کیا اور "درء تعارض العقل والنقل” جیسی معرکہ آرا کتاب لکھ کر ثابت کیا کہ سچی عقل اور صحیح نقل (وحی) میں کبھی تضاد نہیں ہو سکتا۔ آپ نے باطل عقائد، الحاد اور صوفیانہ غلو کے خلاف بھرپور علمی جہاد کیا۔ عسکری میدان میں، جب تاتاریوں نے دمشق کا رخ کیا، تو امام ابن تیمیہ نے نہ صرف عوام اور حکمرانوں کو جہاد پر ابھارا بلکہ خود تلوار اٹھا کر تاتاریوں کے خلاف معرکہ شقحب (702ھ) میں بھرپور حصہ لیا، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو شاندار فتح حاصل ہوئی۔

ابتلا و آزمائش، قید و بند اور وصالِ مبارک

حق گوئی اور بے باکی کی وجہ سے امام ابن تیمیہ کو عمر بھر شدید مخالفت اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حاسدین اور درباری علماء کے اکسانے پر آپ کو متعدد بار قاہرہ، اسکندریہ اور دمشق میں قید کیا گیا۔ آپ نے قید خانے کو بھی عبادت گاہ اور تصنیف و تالیف کے مرکز میں بدل دیا۔ زندگی کے آخری ایام میں آپ کو قلعہ دمشق میں قید کیا گیا، اور آپ سے لکھنے پڑھنے کا سامان (کاغذ و قلم) بھی چھین لیا گیا۔ اس کٹھن وقت میں آپ نے کوئلے سے دیواروں پر اور کاغذ کے پرزوں پر تحریریں لکھیں۔ بالآخر، اسی قید خانے میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے، 20 ذوالقعدہ 728 ہجری کو آپ کا وصال ہوا۔ دمشق میں آپ کا جنازہ اسلامی تاریخ کے عظیم ترین جنازوں میں سے ایک تھا، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • حافظ ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 14)
  • امام شمس الدین الذہبی (سير أعلام النبلاء، ترجمہ ابن تیمیة)
  • ابن قیم الجوزیہ (الأسماء والصفات اور دیگر کتب میں تذکرہ)
  • حافظ ابن رجب الحنبلی (ذيل طبقات الحنابلة)
  • ابن حجر عسقلانی (الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة)

مبارک اقوال و ارشادات

دنیا میں ایک جنت ہے، جو اس میں داخل نہ ہوا وہ آخرت کی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا (یعنی معرفتِ الٰہی اور ایمان کی حلاوت)۔

میرے دشمن میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟ میری جنت اور میرا باغ تو میرے سینے میں ہے، جہاں بھی میں جاؤں یہ میرے ساتھ ہے۔ میری قید خلوتِ الٰہی ہے، میرا قتل شہادت ہے، اور میرا وطن سے نکالا جانا سیاحت ہے۔

دلوں کا سکون، اصلاح اور فلاح صرف اور صرف اللہ رب العزت کی عبادت، محبت اور اس کی طرف رجوع کرنے میں ہے۔

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

لقب و کنیت: ابو العباس، تقی الدین، شیخ الاسلام، امام، مجتہدِ مطلق، ناصر السنہ، قامع البدعہ
قبیلہ: بنو نمير (عدنانی قبیلہ کی شاخ)
سن پیدائش و وفات: 10 ربیع الاول 661 ھ – 20 ذوالقعدہ 728 ھ / 22 جنوری 1263ء – 26 ستمبر 1328ء
مقام تدفین: مقبرہ صوفیہ، دمشق، شام
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com