نسب مبارک، ولادت با سعادت اور اوائل زندگی
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادتِ با سعادت ہجرت کے چوتھے سال شعبان المعظم کی تین تاریخ کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ کی ولادت پر رسول اللہ ﷺ بے حد مسرور ہوئے، آپ کے کان میں اذان دی، عقیقہ فرمایا اور آپ کا نام ‘حسین’ رکھا، جو اس سے پہلے کسی کا نہیں تھا۔ آپ کا نسب سید الاولین والآخرین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک پہنچتا ہے کیونکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے جگر گوشہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اور شیرِ خدا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔
امام عالی مقام کا بچپن نبوت کے سایہِ رحمت میں گزرا۔ آپ نے براہِ راست رسول اللہ ﷺ کے آغوشِ تربیت میں پرورش پائی۔ نبی کریم ﷺ کو اپنے دونوں نواسوں، سیدنا حسن اور سیدنا حسین سے بے پناہ محبت تھی۔ بے شمار احادیث اس بات کی گواہ ہیں کہ آپ ﷺ انہیں گود میں بٹھاتے، اپنے کندھوں پر سوار کرتے اور ان کے رونے پر بے چین ہو جاتے۔ آپ ﷺ کا یہ فرمان رہتی دنیا تک ان کی عظمت کا نشان ہے: "حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔”
عہدِ خلفائے راشدین اور کبارِ صحابہ میں مقام و مرتبہ
عہدِ صدیقی اور عہدِ فاروقی میں سیدنا امام حسین اور ان کے برادرِ اکبر سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو انتہائی معزز اور ممتاز مقام حاصل تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں عطیات اور وظائف کی تقسیم میں حسنین کریمین کو سب سے مقدم رکھتے تھے اور انہیں غزوۂ بدر کے شرکاء کے برابر وظیفہ دیا کرتے تھے۔ آپ صحابہ کرام کے مابین علم، شجاعت اور تقویٰ کے مجسم نمونے کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب فتنہ پرور عناصر نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کیا اور خلیفہِ مظلوم کے گھر کا پانی بند کر دیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حکم پر سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین تلواریں سونت کر خلیفہ کے گھر کے دروازے پر پہرہ دیتے رہے تاکہ کوئی باغی اندر داخل نہ ہو سکے۔ اپنے والدِ گرامی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں آپ نے تمام معرکوں (جمل، صفین، نہروان) میں جوش و خروش سے حصہ لیا اور باطل فتنوں کے خلاف حق کا پرچم بلند رکھا۔
عظیم الشان قربانی اور معرکہِ کربلا
سن 60 ہجری میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد جب یزید بن معاویہ نے مسندِ اقتدار سنبھالی اور شریعتِ اسلامیہ کے اصولوں کے برعکس موروثی خلافت اور آمرانہ نظام کی بنیاد رکھنا چاہی، تو امام حسین رضی اللہ عنہ نے بیعت سے صاف انکار فرما دیا۔ آپ کا موقف تھا کہ اسلامی نظامِ حکومت شوریٰ اور تقویٰ کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ شخصی بادشاہت پر۔ کوفہ کے لوگوں نے خطوط لکھ کر آپ کو امامت اور رہنمائی کے لیے مدعو کیا، جس پر آپ نے پہلے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ بھیجا۔
کوفیوں کی بے وفائی اور مسلم بن عقیل کی شہادت کے بعد، جب امام عالی مقام اپنے اہل خانہ اور مٹھی بھر رفقاء کے ساتھ عراق کی سرزمین پر پہنچے، تو یزیدی لشکر نے کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں آپ کا گھیراؤ کر لیا۔ 2 محرم 61 ھ کو آپ کربلا پہنچے اور 7 محرم سے آپ اور آپ کے خاندان پر پانی بند کر دیا گیا۔ 10 محرم الحرام 61 ہجری کو تاریخِ انسانی کا سب سے دردناک اور عظیم معرکہ پیش آیا، جہاں بھوک اور پیاس کی شدت کے باوجود امام عالی مقام اور ان کے 72 جانثاروں نے باطل کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ ایک ایک کر کے آپ کے جاں نثار، بھائی، بھتیجے، اور جوان بیٹے علی اکبر و ننھے علی اصغر شہید ہو گئے، اور بالآخر خود امام عالی مقام سجدے کی حالت میں انتہائی مظلومیت کے ساتھ شہید کر دیے گئے۔
شہادت کے اثرات اور تاریخی میراث
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت محض ایک سانحہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک ابدی خطِ امتیاز ہے۔ آپ نے اپنی اور اپنے خاندان کی قربانی دے کر دینِ اسلام کے اصل چہرے کو مسخ ہونے سے بچا لیا اور یزیدی ملوکیت کے غیر اسلامی کردار کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ آپ کی قربانی نے رہتی دنیا تک کے لیے مظلوموں اور حریت پسندوں کو ظلم، ناانصافی اور جابر حکمرانوں کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ اور فلسفہ دیا۔
آج چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی امام حسین کا نام دنیا بھر میں حریت، شجاعت، صبر اور رضا بالرضا کی علامت کے طور پر زندہ و جاوید ہے، جبکہ یزید کا نام ظلم اور رسوائی کی علامت بن کر رہ گیا ہے۔ بقول شاعر: "قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے، اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔”
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی، الاصابة في تمييز الصحابة، ترجمہ امام حسین بن علی۔
- امام شمس الدین الذہبی، سير أعلام النبلاء، ج 3، سوانح امام حسین شہید۔
- ابن الاثیر الجزری، اسد الغابة في معرفة الصحابة، احوالِ سید الشہداء۔
- ابن کثیر، البداية والنهاية، ج 8، حوادثِ سن 61 ہجری اور مقتلِ حسین۔
- امام ابن جریر الطبری، تاریخ الرسل والملوک (تاریخ الطبری)، تذکرہ معرکہِ کربلا۔
مبارک اقوال و ارشادات
ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔
لوگوں کی ضرورتوں کا تمہارے پاس لایا جانا، تم پر اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے، لہذا ان نعمتوں سے ملول نہ ہو جاؤ (تنگ دل نہ ہو)۔
بیشک میں سرکشی، تکبر، فساد یا ظلم پھیلانے کے لیے نہیں نکلا، بلکہ میرا مقصد اپنے نانا کی امت کی اصلاح کرنا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔
