خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
خواجہ نصیر الدین محمد بن محمد الطوسیؒ 11 جمادی الاولی 597ھ کو طوس، خراسان (موجودہ ایران) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد بن حسن خود ایک نامور فقیہ اور محدث تھے، جنہوں نے نصیر الدین کی ابتدائی تعلیم و تربیت خود کی۔ طوس میں ابتدائی مراحل طے کرنے کے بعد، نصیر الدین الطوسی نے نیشاپور، موصل اور بغداد جیسے بڑے علمی مراکز کا رخ کیا جہاں انہوں نے فلسفہ، ریاضی، ہیئت (فلکیات)، فقہ، اور علم الکلام میں کمال حاصل کیا۔ ان کے اساتذہ میں کمال الدین بن یونس موصلی اور فرید الدین داماد نمایاں تھے، جنہوں نے انہیں ابن سینا کے فلسفے اور ریاضیاتی علوم سے روشناس کروایا۔
سائنسی و علمی خدمات اور رصد گاہِ مراغہ
نصیر الدین الطوسی کا شمار دنیا کے عظیم ترین ریاضی دانوں اور ماہرینِ فلکیات میں ہوتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار مثلثیات (Trigonometry) کو ایک مستقل علم کے طور پر متعارف کروایا اور اس پر اپنی شہرہ آفاق کتاب ‘کتاب الشكل القطاع’ لکھی۔ علمِ فلکیات میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ‘رصد گاہِ مراغہ’ (Maragheh Observatory) کی تاسیس ہے، جو اپنے وقت کی سب سے جدید رصد گاہ تھی۔ یہاں انہوں نے مغل حکمران ہلاکو خان کی سرپرستی میں فلکیاتی جدول تیار کیا جسے ‘زیجِ ایلخانی’ کہا جاتا ہے۔ اس رصد گاہ میں ایک کتب خانہ بھی قائم کیا گیا جس میں 4 لاکھ سے زائد کتب موجود تھیں، جو سقوطِ بغداد کے وقت تباہی سے بچائی گئی تھیں۔
سیاسی دور اور سقوطِ بغداد میں کردار
نصیر الدین الطوسی کی زندگی کا ایک بڑا حصہ مغلوں کے سیاسی عروج و زوال کے دور میں گزرا۔ اسماعیلی قلعوں (خصوصاً قلعہ الموت) میں ایک طویل عرصے تک نظر بندی یا قیام کے بعد، جب ہلاکو خان نے ان قلعوں کو فتح کیا، تو اس نے نصیر الدین الطوسی کی علمی قابلیت سے متاثر ہو کر انہیں اپنا مشیرِ خاص اور وزیرِ اوقاف مقرر کیا۔ سقوطِ بغداد (1258ء) کے موقع پر، انہوں نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے عالمِ اسلام کے سینکڑوں نامور علماء، فقہاء اور فلسفیوں کی جانیں بچائیں اور تباہی کے دہانے پر پہنچے ہوئے بے شمار علمی ذخائر اور اسلامی کتب خانوں کو محفوظ کیا۔
وصال مبارک اور علمی میراث
نصیر الدین الطوسی نے 18 ذوالحجہ 672ھ (بمطابق 26 جون 1274ء) کو بغداد میں وفات پائی۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں کاظمین (عراق) میں امام موسیٰ کاظم اور امام محمد تقی علیہما السلام کے جوار میں دفن کیا گیا۔ ان کی علمی میراث میں ‘اخلاقِ ناصری’ (اخلاقیات اور عمرانیات پر لاجواب کتاب)، ‘تجرید العقائد’ (علمِ کلام کی بنیادی کتاب)، اور ‘تذکرہ فی علم الہیئہ’ (فلکیات) شامل ہیں، جن پر صدیوں تک اسلامی اور مغربی جامعات میں شرحیں لکھی جاتی رہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 13)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء)
- صلاح الدین الصفدی (الوافی بالوفیات)
- ابن شاکر الکتبی (فوات الوفیات)
- خیر الدین الزرکلی (الاعلام)
مبارک اقوال و ارشادات
علم روح کی حیات ہے اور جہالت نفس کی ابدی موت ہے۔
حقیقی دانشمند وہ ہے جو حوادثِ زمانہ کا سامنا صبر اور عقل کی روشنی میں کرے۔
انسان کی فضیلت اس کے علم اور اخلاق میں پوشیدہ ہے، نہ کہ اس کی مادی سلطنت میں۔
