مسلم سائنسدان و فلاسفہ

محمد بن جریر الطبری (امام التاریخ و التفسیر)

« أبو جعفر محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الطبري »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام محمد بن جریر الطبری 224 ہجری میں طبرستان کے مشہور شہر آمل میں پیدا ہوئے۔ آپ کا گھرانہ علمی اور مالی لحاظ سے مستحکم تھا۔ آپ کے والد نے خواب میں دیکھا کہ ان کا بیٹا رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑا ہے اور اس کی جھولی میں کنکریاں ہیں جنہیں وہ پھینک رہا ہے، معبرین نے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ یہ بچہ دین کی خدمت کرے گا اور باطل عقائد کا رد کرے گا۔ اسی خواب کے بعد آپ کے والد نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ امام الطبری غیر معمولی حافظے کے مالک تھے؛ انہوں نے محض سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا، آٹھ سال کی عمر میں نماز کی امامت کرانے لگے اور نو سال کی عمر میں احادیث لکھنا شروع کر دیں۔

طلبِ علم کے لیے اسفار اور علمی مرتبت

امام الطبری نے حصولِ علم کے لیے اسلامی دنیا کے تمام بڑے علمی مراکز کا سفر کیا۔ انہوں نے ری، بغداد، بصرہ، کوفہ، شام اور مصر کے طویل علمی اسفار کیے۔ ان اسفار کے دوران انہوں نے اپنے وقت کے جلیل القدر محدثین، فقہاء اور مفسرین سے اکتسابِ فیض کیا۔ انہوں نے امام احمد بن حنبل سے ملاقات کے لیے بغداد کا سفر کیا تھا، لیکن بغداد پہنچنے سے قبل ہی امام احمد بن حنبل کا انتقال ہو چکا تھا، جس کا انہیں ہمیشہ افسوس رہا۔ امام الطبری ایک مجتہدِ مطلق تھے؛ ابتدا میں انہوں نے امام شافعی کے فقہ پر کام کیا، لیکن بعد میں وہ خود اجتہاد کے درجے پر فائز ہوئے اور ان کا ایک الگ فقہی مکتبِ فکر قائم ہوا جسے "المذہب الجریری” کہا جاتا ہے، جو ایک عرصے تک قائم رہا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

امام الطبری کی تصنیفات اسلامی تاریخ کا انمول سرمایہ ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی شہرہ آفاق تفسیر "جامع البيان عن تأويل آي القرآن” ہے جو "تفسیر الطبری” کے نام سے مشہور ہے اور اسے تفسیر بالماثور میں سب سے مستند کتاب مانا جاتا ہے۔ ان کا دوسرا بڑا کارنامہ "تاريخ الرسل والملوك” (تاریخ الطبری) ہے، جو تخلیقِ کائنات سے لے کر ان کے اپنے دور تک کی تاریخ پر سب سے قدیم اور جامع ترین دستاویز ہے۔ امام الطبری زہد و تقویٰ، للہیت اور استغنا کا پیکر تھے۔ انہوں نے خلفاء اور امراء کے بڑے بڑے تحائف اور سرکاری عہدوں (جیسے قضا کا عہدہ) کو قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کیا اور اپنی آبائی زمین کی قلیل آمدنی پر قناعت کی۔

وصالِ مبارک اور تاریخی میراث

امام ابن جریر الطبری نے اپنی زندگی کا آخری حصہ بغداد میں تصنیف و تالیف اور درس و تدریس میں گزارا۔ 26 شوال 310 ہجری کو 86 برس کی عمر میں آپ نے بغداد میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ ان کی وفات پر بغداد کے علمی حلقوں میں کہرام مچ گیا اور جم غفیر کی وجہ سے انہیں رات کے وقت ان کے اپنے گھر میں ہی سپردِ خاک کیا گیا۔ مؤرخین اور محدثین نے متفقہ طور پر انہیں "امام المفسرین والمؤرخین” تسلیم کیا ہے اور ان کے علم، دیانت اور سچائی کی گواہی دی ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 14)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 11)
  • خطیب بغدادی (تاريخ بغداد، جلد 2)
  • یاقوت الحموی (معجم الأدباء، جلد 6)
  • ابن خلکان (وفیات الأعيان، جلد 4)

مبارک اقوال و ارشادات

علم حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان اس پر دوام اختیار کرے اور کتب کے مطالعے کو کبھی نہ چھوڑے۔

اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ میں نے زندگی کیسے گزاری، تو میں کہوں گا کہ میں نے قلم کی سیاہی اور کاغذ کی سفیدی کے درمیان زندگی بسر کی۔

میں نے کبھی کسی ایسے شخص کا علم قبول نہیں کیا جس کے عقیدے اور دیانت داری پر مجھے شبہ ہو۔

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

محمد بن جریر الطبری (امام التاریخ و التفسیر)

لقب و کنیت: ابو جعفر، امام المفسرین، امام المورخین، صاحب التصانیف العظام، مجتہدِ مطلق
قبیلہ: طبرستانی (آمل، طبرستان کے فارسی الاصل خاندان سے تعلق)
سن پیدائش و وفات: 224ھ – 26 شوال 310ھ / 839ء – 923ء
مقام تدفین: بغداد، عراق (اپنے رہائشی مکان واقع رحبۃ یعقوب میں مدفون ہوئے)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com