خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
اموی سلطنت کے دسویں خلیفہ، ہشام بن عبد الملک 72 ہجری میں دمشق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عبد الملک بن مروان بن الحكم بنو امیہ کے عظیم ترین خلفاء میں شمار ہوتے ہیں۔ ہشام کی تربیت دمشق کے شاہی دربار اور مدینہ منورہ کے علمی ماحول میں ہوئی۔ وہ بچپن ہی سے انتہائی سنجیدہ، فہمیدہ اور انتظامی امور میں گہری دلچسپی رکھنے والے انسان تھے۔ ان کے عہدِ خلافت کو بنو امیہ کا آخری سنہری دور قرار دیا جاتا ہے، جس میں انہوں نے بکھرتی ہوئی سلطنت کو اپنے حلم، تدبر اور فولادی عزم سے دوبارہ مضبوط کیا۔
عہدِ خلافت اور انتظامی اصلاحات
ہشام بن عبد الملک نے اپنے بھائی یزید ثانی کی وفات کے بعد 105 ہجری (724ء) میں خلافت کی باگ ڈور سنبھالی۔ ان کا دورِ حکومت تقریباً بیس سال پر محیط ہے۔ انہوں نے حکومت سنبھالتے ہی سب سے پہلے خزانے اور ٹیکس کے نظام کی اصلاح کی۔ وہ حد درجہ کفایت شعار اور دیانت دار حکمران تھے۔ انہوں نے بیت المال کو بدعنوانی سے پاک کیا اور نہروں کی کھدائی، زراعت کی ترقی اور تجارتی راستوں پر چوکیاں قائم کرنے جیسے بے شمار فلاحی کام کیے۔ ان کے دور میں شام کا شہر ‘رصافة’ ان کا مستقل مرکز بنا جہاں انہوں نے محلات اور باغات تعمیر کیے۔
نمایاں کارنامے، فتوحات اور علمی خدمات
ہشام کے دورِ حکومت میں اموی سلطنت کی سرحدیں مغرب میں فرانس کے وسط اور مشرق میں ہندوستان اور ماوراء النہر تک پھیل گئیں۔ ان کے دور کا سب سے مشہور معرکہ ‘بلاط الشہداء’ (Battle of Tours) ہے جو 114 ہجری میں فرانس کے میدانوں میں لڑا گیا، جس کی قیادت عبدالرحمن الغافقی نے کی۔ اگرچہ اس معرکے میں مسلمانوں کو شکست ہوئی، لیکن اس نے عیسائی دنیا پر مسلمانوں کی ہیبت بٹھا دی۔ علمی میدان میں انہوں نے یونانی، فارسی اور سنسکرت کتب کے عربی تراجم کی حوصلہ افزائی کی اور امام ابن شہاب زہری جیسے جلیل القدر محدثین کی سرپرستی کی، جن کے ذریعے احادیث کی تدوین کا کام آگے بڑھا۔
وصال اور تاریخی میراث
خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے 125 ہجری (743ء) میں رصافة کے مقام پر وفات پائی۔ ان کی وفات کے بعد اموی سلطنت تیزی سے زوال کی طرف گامزن ہو گئی، اسی لیے مؤرخین انہیں ‘امویوں کا آخری مضبوط بازو’ کہتے ہیں۔ مورخین لکھتے ہیں کہ اگر ہشام کا دورِ حکومت نہ ہوتا تو اموی سلطنت بہت پہلے ہی بکھر جاتی۔ انہوں نے ایک وسیع، مستحکم اور معاشی طور پر مستحکم خلافت اپنی یادگار چھوڑی۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 9)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، الطبقة الرابعة)
- ابن جریر الطبری (تاریخ الرسل والملوک، واقعاتِ سنہ 105ھ تا 125ھ)
- ابن الاثیر الجزری (الکامل فی التاریخ)
مبارک اقوال و ارشادات
مجھے دنیا میں تین چیزیں سب سے زیادہ عزیز ہیں: ایسا دوست جس کی گفتگو سے دل کو راحت پہنچے، معتدل معیشت، اور رعایا کا مجھ سے راضی رہنا۔
بادشاہ کے لیے سب سے بڑی بربادی یہ ہے کہ اس کا خزانہ خالی ہو اور وہ رعایا پر بوجھ بن جائے۔
