ائمہ اربعہ و فقہاء کرام

امام یحییٰ بن شرف نووی

« أبو زكريا يحيى بن شرف بن مري بن حسن بن حسين بن محمد بن جمعة بن حزام الحزامي النواوي الشافعي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام محیی الدین ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت دمشق کے قریب واقع قصبہ "نوى” میں ماہِ محرم الحرام 631 ہجری میں ہوئی۔ آپ کا تعلق ایک نہایت شریف، متقی اور دیندار گھرانے سے تھا، جہاں آپ کے والد گرامی شیخ شرف بن مری نے آپ کی تربیت اسلامی خطوط پر کی۔ بچپن ہی سے آپ کھیل کود سے دور رہتے اور کتبِ علم سے شغف رکھتے تھے۔ نو جوانی کے دور میں جب دیگر بچے کھیل کود میں مصروف ہوتے، آپ قرآن مجید کی تلاوت اور حفظ میں مصروف رہتے۔ آپ کی اس غیر معمولی سنجیدگی اور علمی لگن کو دیکھ کر علاقے کے بزرگوں نے آپ کے والد کو متوجہ کیا کہ یہ بچہ مستقبل کا ایک عظیم پیشوا بنے گا۔ چنانچہ آپ کے والد نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی اور آپ کو علمِ دین کی پیاس بجھانے کے لیے دمشق بھیج دیا جو اس وقت علم و معرفت کا مرکز مانا جاتا تھا۔

تحصیلِ علم، علمی اسفار اور کٹھن مجاہدے

دمشق آمد کے بعد امام نووی نے وہاں کے مشہور تعلیمی مرکز "المدرسۃ الروواحیۃ” میں قیام فرمایا۔ یہاں آپ کا علمی سفر انتہائی کٹھن اور کثرتِ مجاہدہ سے بھرپور تھا۔ تاریخ دان لکھتے ہیں کہ آپ روزانہ بارہ مختلف علوم کے اسباق اپنے شیوخ سے پڑھتے تھے، جن میں علمِ حدیث، فقہ، لغت، اسماء الرجال، اصولِ فقہ اور عقائد شامل تھے۔ آپ چوبیس گھنٹوں میں صرف تھوڑی دیر کے لیے آرام فرماتے اور بقیہ تمام وقت مطالعہ، حفظ اور تکرارِ علم میں گزارتے۔ دمشق کے کبار شیوخ اور ائمہ عصر سے آپ نے اکتسابِ علم کیا۔ آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کی اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے علمی حلقوں سے بھی فیض یاب ہوئے۔ کثرتِ ریاضت اور دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے آپ نے شادی نہیں کی اور اپنی پوری زندگی دینِ متین کی خدمت اور تصنیف و تالیف کے لیے وقف کر دی۔

نمایاں علمی خدمات، زہد و تقویٰ اور فضائل

امام نووی شافعی المسلک تھے اور فقہ شافعی کے ایسے محقق گزرے ہیں کہ ان کی تحریرات کے بغیر شافعی فقہ کا فہم ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ زہد و تقویٰ میں آپ سلف صالحین کا نمونہ تھے۔ انتہائی سادہ لباس پہنتے، روکھی سوکھی روٹی کھاتے اور وقت کے بادشاہوں سے کوئی ہدیہ یا تحفہ قبول نہیں کرتے تھے۔ آپ نے بے شمار لازوال کتب تصنیف کیں جن کو تاقیامت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان میں سب سے نمایاں "ریاض الصالحین” ہے، جو دنیا بھر کی مساجد اور گھروں میں پڑھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ "المنہاج فی شرح صحیح مسلم بن الحجاج” (شرح مسلم) علمِ حدیث کی ایک مایہ ناز شرح ہے۔ آپ کی کتاب "الاربعین النوویہ” (چالیس حدیثیں) حفظِ حدیث کا ایک لازمی نصاب بن چکی ہے۔ فقہ میں آپ کی تصنیف "المجموع شرح المہذب” اور "روضۃ الطالبین” فقہِ شافعی کا دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) کہلاتی ہیں۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مختصر مگر انتہائی بابرکت زندگی کے بعد محض 45 سال کی عمر میں، 24 رجب المرجب 676 ہجری کو اپنے آبائی قصبے نوى (شام) میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ ان کی وفات کی خبر جب دمشق پہنچی تو پورے شہر میں کہرام مچ گیا اور اسلامی دنیا ایک عظیم محدث اور فقیہ سے محروم ہو گئی۔ آپ کو نوى ہی کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اگرچہ ان کی زندگی مختصر تھی، لیکن ان کی علمی اور معنوی میراث صدیوں پر محیط ہے۔ ان کی کتب کو جو عوامی و علمی مقبولیت حاصل ہوئی، وہ تاریخِ اسلام میں بہت کم ائمہ کو نصیب ہوئی۔ آج بھی دنیا بھر کے مدارس اور جامعات میں ان کی تحریرات اسلامی فکر کا ایک بنیادی ستون مانی جاتی ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • تاج الدین السبکی (طبقات الشافعیہ الکبریٰ)
  • امام شمس الدین الذہبی (سير أعلام النبلاء)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)
  • علاء الدین ابن العطار (تحفۃ الطالبین فی ترجمۃ شیخنا الامام النووی)
  • جلال الدین السیوطی (المنہاج السوی فی ترجمۃ الامام النووی)

مبارک اقوال و ارشادات

علم حاصل کرنا اور اس کی نشر و اشاعت کرنا، نفل نمازوں، روزوں اور تسبیح و تہلیل سے افضل ہے، کیونکہ علم کا نفع متعدی (دوسروں تک پہنچنے والا) ہے جبکہ ان عبادات کا نفع ذات تک محدود ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ہر اس شخص پر واجب ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو، لیکن اس کے لیے علم، نرمی اور انتہائی دانشمندی شرط ہے۔

دنیا میں زہد اختیار کرنا دل اور بدن دونوں کے لیے راحت کا باعث ہے، اور دنیا کی رغبت دل میں فکر اور غم پیدا کرتی ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام یحییٰ بن شرف نووی

لقب و کنیت: ابو زکریا (کنیت)، محیی الدین (لقب)، شیخ الاسلام، قطب المحدثین، شیخ الشافعیہ
قبیلہ: حزامی (صحابیِ رسول سیدنا حزام بن خویلد رضی اللہ عنہ کی نسبت سے، قبیلہ بنو اسد)
سن پیدائش و وفات: 631 ھ – 676 ھ / 1233ء – 1277ء
مقام تدفین: نوى، صوبہ درعا، ملک شام
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com