خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام سلیمان بن یسار ہلالی رحمہ اللہ کی ولادت خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری سالوں میں تقریباً 34 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کے مکاتب غلام تھے، جنہوں نے بعد میں آپ کو آزاد کر دیا۔ اسی نسبت سے آپ کو ‘ہلالی’ اور ‘مدنی’ کہا جاتا ہے۔ آپ کا پورا گھرانہ علم و فضل کا گہوارہ تھا۔ آپ کے بھائی عطاء بن یسار بھی مدینہ کے جلیل القدر علماء اور محدثین میں شمار ہوتے تھے۔ امام سلیمان نے مدینہ منورہ کے علمی اور ایمانی ماحول میں پرورش پائی اور صحابہ کرام کی آخری کھیپ سے براہِ راست فیض حاصل کیا۔
فقہی مقام، علمی جلالت اور مدینہ کے فقہائے سبعہ میں مقام
امام سلیمان بن یسار رحمہ اللہ مدینہ منورہ کے ان سات نامور فقہاء (الفقہاء السبعہ) میں شامل ہیں جن پر اپنے دور میں فتویٰ اور فقہ کا مدار تھا۔ آپ علمِ حدیث، فقہ، اور فرائض (علمِ وراثت) کے امام تھے۔ مدینہ کے گورنر اور بعد میں خلیفہ بننے والے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ، سلیمان بن یسار کی علمی ہیبت اور فقہی بصیرت کے اس حد تک قائل تھے کہ اپنے دورِ حکومت میں مدینہ منورہ کے عدالتی اور انتظامی فیصلوں میں ان سے باقاعدہ مشاورت فرماتے تھے۔ آپ کے فتاویٰ کو مدینہ منورہ میں قانون کا درجہ حاصل تھا کیونکہ وہ قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں انتہائی متوازن ہوتے تھے۔
نمایاں کارنامے، زہد و تقویٰ اور معاصرین کی آراء
علمی کمالات کے ساتھ ساتھ امام سلیمان بن یسار زہد، تقویٰ، اور کثرتِ عبادت کے لیے بھی مشہور تھے۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ آپ حسنِ اخلاق، وقار اور حیا کا مجسمہ تھے۔ ایک مرتبہ مصر کے سفر کے دوران ایک عورت نے آپ کو ورغلانے کی کوشش کی تو آپ اللہ کے خوف سے رو پڑے اور وہاں سے فوراً ہجرت کر گئے، جس پر انہیں ‘یوسفِ ثانی’ بھی کہا جاتا ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلیمان بن یسار ان علماء میں سے تھے جن کی زندگی دیکھ کر انسان کا ایمان تازہ ہو جاتا تھا۔ آپ کی مرویات کتبِ ستہ کی تمام کتب میں موجود ہیں اور محدثین کے نزدیک آپ کی سند انتہائی مضبوط اور عالی مانی جاتی ہے۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
امام سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے ایک طویل اور بابرکت زندگی علم کی خدمت اور زہد و تقویٰ میں گزاری۔ آپ کا وصال سن 107 ہجری (بعض روایات کے مطابق 100 یا 104 ہجری) میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ کو مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ آپ نے اپنے پیچھے تلامذہ کی ایک ایسی کھیپ چھوڑی جنہوں نے تدوینِ فقہ اور تدوینِ حدیث میں بنادی کردار ادا کیا، جن میں سرفہرست امام ابن شہاب الزہری اور امام ربیعۃ الرائے ہیں۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی، (تہذیب التہذیب)، جلد 4، صفحہ 228
- امام ذہبی، (سیر اعلام النبلاء)، جلد 4، سوانح سلیمان بن یسار
- ابن کثیر، (البدایہ والنہایہ)، جلد 9، حوادثِ سن 107 ہجری
- ابن سعد، (الطبقات الکبریٰ)، جلد 5، طبقاتِ فقہائے مدینہ
مبارک اقوال و ارشادات
امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "میں نے سلیمان بن یسار سے بڑھ کر سنتوں کا عالم کسی کو نہیں دیکھا۔"
امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "سلیمان بن یسار مدینہ کے ائمہ میں سے ایک اعلیٰ درجے کے ثقہ اور معتبر عالم تھے۔"
امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ (جو خود علم کا سمندر تھے) جب ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو بسا اوقات فرماتے: "سلیمان بن یسار کے پاس جاؤ، وہ اس وقت لوگوں میں سب سے بڑے عالم ہیں۔"
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
