Tabi'un (تابعی)

امام شریح بن حارث کندی رحمہ اللہ (قاضی کوفہ)

« أبو أمية شريح بن الحارث بن قيس الكندي الكوفي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام شریح بن حارث الکندی رحمہ اللہ کا تعلق یمن کے معزز اور جنگجو قبیلے ‘بنو کندہ’ سے تھا۔ آپ کی ولادت ہجرتِ نبوی سے تقریباً چالیس سال قبل یمن میں ہوئی۔ آپ کا پورا نام شریح بن الحارث بن قیس الکندی ہے۔ آپ نے جاہلیت کا زمانہ دیکھا اور عین جوانی کے عالم میں یمن ہی میں اسلام قبول کیا۔ اگرچہ آپ کو رسول اللہ ﷺ کے ظاہری عہدِ مبارک کو پانے کا شرف حاصل ہوا، لیکن آپ یمن میں مقیم ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ کی براہِ راست زیارت نہ کر سکے، اسی لیے آپ کو تابعین کے طبقہ اولیٰ میں ‘مخضرم’ (عہدِ رسالت پانے والا لیکن زیارت سے محروم) کا ممتاز مقام حاصل ہے۔

قبولِ اسلام اور منصبِ قضا پر تقرری

فتوحاتِ اسلامیہ کے دور میں امام شریح مدینہ منورہ تشریف لائے جہاں انہوں نے کبار صحابہ کرام کی صحبت اختیار کی۔ آپ کی غیر معمولی ذہانت، گہرے فقہی فہم اور بے مثال قوتِ فیصلہ کو سب سے پہلے خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بھانپا۔ ایک مشہور تاریخی واقعہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق نے ایک شخص سے گھوڑا خریدا اور اس پر سوار ہو کر روانہ ہوئے، کچھ دور جا کر گھوڑے میں عیب ظاہر ہوا۔ جب سیدنا عمر نے اسے واپس کرنا چاہا تو بیچنے والے نے انکار کر دیا۔ دونوں نے شریح کو حکم (ثالث) مانا۔ شریح نے فیصلہ دیا: ‘اے امیر المؤمنین! یا تو گھوڑا اسی حالت میں لے لیں جس حالت میں خریدا تھا یا پھر اسے تندرست حالت میں واپس کریں جیسے آپ نے لیا تھا’۔ سیدنا عمر اس عادلانہ فیصلے سے اس قدر متاثر ہوئے کہ آپ کو ‘کوفہ’ کا قاضی مقرر کر دیا، جہاں آپ مسلسل 60 سال تک منصبِ قضا پر فائز رہے۔

نمایاں کارنامے، عدل و انصاف اور مناقب

امام شریح الکندی اسلامی تاریخ میں عدل و انصاف کا استعارہ سمجھے جاتے ہیں۔ آپ کے دورِ قضا کا سب سے سنہرا واقعہ خلیفہِ وقت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی زرہ کا مقدمہ ہے۔ سیدنا علی کی زرہ ایک یہودی (یا عیسائی) کے پاس ملی۔ سیدنا علی نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ قاضی شریح نے خلیفہِ وقت ہونے کے باوجود سیدنا علی سے ثبوت طلب کیا۔ سیدنا علی نے اپنے بیٹے سیدنا حسن اور اپنے غلام قنبر کی گواہی پیش کی۔ قاضی شریح نے مسلمہ ضابطے کے تحت بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں قبول کرنے سے معذرت کر لی اور مقدمہ خارج کر کے زرہ یہودی کو دے دی۔ یہ بے مثال عدل دیکھ کر مد مقابل غیر مسلم حیران رہ گیا اور پکار اٹھا: ‘یہ تو پیغمبروں کے فیصلے ہیں!’ اور فوراً کلمہ پڑھ کر دائرہِ اسلام میں داخل ہو گیا۔ قاضی شریح نے عمر بھر کبھی کسی دباؤ، سفارش یا لالچ کو اپنے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام شریح رحمہ اللہ نے انتہائی طویل عمر پائی۔ حجاج بن یوسف کے دورِ فتنہ میں، جب کوفہ کے حالات ناسازگار ہوئے، تو آپ نے خود کو منصبِ قضا سے الگ کر لیا اور گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ آپ کا وصال مبارک سن 78ھ (یا بعض روایات کے مطابق 80ھ) میں کوفہ میں ہوا۔ آپ کی وفات پر کوفہ کا علمی حلقہ سوگوار ہو گیا اور محدثین و فقہاء نے اسے ‘عدالت کے سنہرے دور کا خاتمہ’ قرار دیا۔ علمِ رجال کے ائمہ، جیسے امام ذہبی اور حافظ ابن حجر عسقلانی، آپ کو ثقہ، فقیہ، عادل اور علمِ قضا کا امام تسلیم کرتے ہیں۔ آپ کے اجتہادات اور فیصلے آج بھی اسلامی قوانین اور فقہِ اسلامی کے مآخذ میں جلی حروف سے لکھے جاتے ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة، ترجمہ شریح بن الحارث)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 4، سوانح قاضی شریح)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة فی معرفة الصحابة)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، حوادث سنہ 78ھ)
  • ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، طبقات الکوفيين)

مبارک اقوال و ارشادات

سنت تمہارے قیاس پر مقدم ہے، اس لیے سنت کی اتباع کرو اور اپنی طرف سے دین میں نئی چیزیں ایجاد نہ کرو۔

عدالت کا فیصلہ کسی حرام کو حلال اور حلال کو حرام نہیں کر سکتا، فیصلہ صرف ظاہری گواہی اور ثبوتوں پر ہوتا ہے (باطنی حقیقت خدا کے سپرد ہے)۔

مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ یہ سیدھی آسمان پر جاتی ہے اور اس کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام شریح بن حارث کندی رحمہ اللہ (قاضی کوفہ)

لقب و کنیت: أبو أمية، قاضي الكوفة، الإمام، شِیخ القضاۃ، فقِیہِ ملت، جلیل القدر تابعی
قبیلہ: یمنی قبیلہ بنو کندہ (الكنديون)
سن پیدائش و وفات: تقریباً 40 قبل ہجرت – 78ھ / 80ھ (تقریباً 583ء – 697ء/699ء)
مقام تدفین: کوفہ، عراق
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com