تبع تابعین

امام شعیب بن ابی حمزہ حمصی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

{
"arabic_name”: "أبو بشر شعيب بن أبي حمزة دينار الأموي مولاهم، الحمصي”,
"kunya_titles”: "أبو بشر، الحافظ، الثبت، کاتبِ زہری، محدثِ حمص”,
"tribe”: "بنو امیہ (ولاء کے تعلق سے مولیٰ تھے)”,
"dates”: "ولادت: تقریباً 90ھ – وفات: 162ھ / 163ھ (مطابق 779ء)”,
"age”: "تقریباً 72 سے 73 سال”,
"burial_place”: "حمص، شام”,
"battles”: "میدانِ جنگ کے بجائے مسندِ علم و حدیث کے عظیم مجاہد (شام میں تدریس و روایتِ حدیث میں مشغول رہے)”,
"hadith_count”: "صحاح ستہ بالخصوص صحیح بخاری میں کثرت سے مرویات موجود ہیں (سینکڑوں احادیث کے راوی)”,
"teachers_students”: "اساتذہ: ابن شہاب الزہری، نافع مولیٰ ابن عمر، محمد الباقر، ہشام بن عروہ، ابو الزناد | تلامذہ: بشر بن شعیب (بیٹے)، ابو الیمان الحکم بن نافع، بقية بن الوليد، الوليد بن مسلم”,
"quotes”: "امام احمد بن حنبل نے فرمایا: ‘شعیب بن ابی حمزہ زہری کی حدیث میں پختہ کار تھے اور ان کی لکھی ہوئی کتابیں انتہائی درست ہوتی تھیں۔’nامام یحییٰ بن معین نے فرمایا: ‘شعیب زہری کے اصحاب میں ثقہ اور معتبر ترین لوگوں میں سے تھے۔’nامام ابو حاتم الرازی نے فرمایا: ‘وہ ثقہ، امین اور زہری کی احادیث کے ایسے حافظ تھے جن پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔'”,
"html_content”: "

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام شعیب بن ابی حمزہ حمصی کا شمار تبع تابعین کے سنہری دور کے جلیل القدر محدثین اور ائمہ کرام میں ہوتا ہے۔ ان کا اصل نام شعيب اور والد کا نام دینار تھا، جو ابو حمزہ کے نام سے معروف تھے۔ وہ بنو امیہ کے آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھے، اسی لیے انہیں ‘الاموی مولاهم’ کہا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش شام کے تاریخی شہر حمص میں ہوئی، جو اس وقت علومِ اسلامیہ خصوصاً حدیثِ نبوی کا ایک بڑا مرکز بن چکا تھا۔ انہوں نے بچپن ہی سے علم کی پیاس بجھانے کے لیے حمص کے شیوخ سے رجوع کیا اور اپنی بے پناہ ذہانت اور کمالِ حفظ کی بدولت جلد ہی معاصرین میں ممتاز مقام حاصل کر لیا۔

تحصیلِ علم اور امام زہری کی مصاحبت

امام شعیب بن ابی حمزہ کی زندگی کا سب سے بڑا علمی اعزاز امام ابن شہاب الزہری کی طویل صحبت اور ان کی کتب کی کتابت ہے۔ امام زہری، جو علمِ حدیث کی تدوین کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، شعیب بن ابی حمزہ ان کے خاص کاتب اور معتمد شاگرد تھے۔ انہوں نے امام زہری کے پاس رہ کر نہ صرف احادیث کو حفظ کیا بلکہ انہیں انتہائی صحت اور پختگی کے ساتھ تحریر میں لائے۔ یہی وجہ ہے کہ جرح و تعدیل کے ائمہ انہیں زہری کی روایات کے باب میں سب سے مضبوط اور مستند راویوں میں شمار کرتے ہیں۔ انہوں نے امام زہری کے علاوہ مدینہ اور شام کے دیگر کبار شیوخ جیسے نافع مولیٰ ابن عمر اور امام جعفر صادق کے والد محمد الباقر سے بھی کسبِ فیض کیا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

امام شعیب بن ابی حمزہ کا سب سے بڑا کارنامہ احادیثِ رسول ﷺ کی حفاظت، کتابت اور ان کی کامل دیانت کے ساتھ اگلی نسل تک منتقلی ہے۔ ائمہِ جرح و تعدیل نے ان کی عدالت اور ضبط کی بے حد تعریف کی ہے۔ امام بخاری نے اپنی ‘صحیح’ میں ان کی روایات پر کثرت سے اعتماد کیا ہے، جو ان کی علمی جلالت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ان کے لکھیے ہوئے نسخے اس قدر مستند تھے کہ محدثین ان کی زندگی ہی میں ان کے پاس جا کر اپنی کتب کی تصحیح کیا کرتے تھے۔ ان کا زہد، تقویٰ اور علم کے لیے اخلاصِ نیت ان کی شخصیت کا طرۂ امتیاز تھا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام شعیب بن ابی حمزہ نے سنہ 162ھ (کچھ روایات کے مطابق 163ھ) میں عباسی خلیفہ مہدی کے عہدِ خلافت میں حمص (شام) میں وفات پائی۔ اپنی وفات کے وقت انہوں نے اپنے بیٹے بشر بن شعیب اور اپنے نامور شاگرد ابو الیمان الحکم بن نافع کو طلب کیا اور اپنی تمام مستند کتب ان کے حوالے کیں تاکہ علمِ حدیث کا یہ عظیم ذخیرہ ضائع ہونے سے محفوظ رہے۔ ان کی وفات سے شام کا ایک عظیم علمی آفتاب غروب ہو گیا، لیکن ان کے تلامذہ اور ان کی مرویات نے رہتی دنیا تک ان کے نام کو زندہ جاوید کر دیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (تہذیب التہذیب، جلد 4)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 7)
  • ابن ابی حاتم الرازی (الجرح والتعديل)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية)
  • الامام البخاری (التاريخ الكبير)

”
}
}

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام شعیب بن ابی حمزہ حمصی

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com