Tabi'un (تابعی)

امام مجاہد بن جبر مکی رحمہ اللہ (شاگرد ابن عباس)

« أبو الحجاج مجاهد بن جبر المكي القرشي المخزومي (مولاهم) »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام مجاہد بن جبر مکی رحمہ اللہ کی ولادت با سعادت امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے آخری سالوں میں یعنی سن 21 ہجری (بمطابق 642ء) میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ اصالتاً آزاد کردہ غلام (مولیٰ) تھے اور بنو مخزوم قبیلے سے تعلق رکھنے والے سائب بن ابی السائب المخزومی کے آزاد کردہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو ‘المخزومی ولاءً’ اور ‘المکی’ کہا جاتا ہے۔ امام مجاہد نے مکہ مکرمہ کے انتہائی علمی اور روحانی ماحول میں پرورش پائی، جہاں انہوں نے اپنی اوائل عمری ہی میں حصولِ علم، حفظِ قرآن اور فہمِ شریعت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ ان کا بچپن صحابہ کرام کی کثیر تعداد کی موجودگی میں گزرا جس سے ان کے علمی ذوق کو جلا ملی۔

علمی اسفار اور تحصیلِ علم (شاگردیِ ابن عباس)

امام مجاہد بن جبر رحمہ اللہ کا اصل علمی امتیاز ان کی جلیل القدر صحابی، حبر الامت اور مفسرِ قرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ طویل رفاقت اور شاگردی ہے۔ وہ ابن عباسؓ کے سب سے چہیتے، ذہین اور معتمد ترین شاگرد تھے۔ انہوں نے صرف علم حاصل نہیں کیا بلکہ اسے انتہائی باریک بینی سے پرکھا۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ میں نے تین مرتبہ سیدنا ابن عباسؓ کے سامنے مصحف کی تلاوت کی اور سورہ فاتحہ سے لے کر خاتمہ تک ایک ایک آیت پر ٹھہر کر ان سے اس کے سببِ نزول، لغوی معنی اور تفسیری پہلوؤں کے بارے میں جرح و تعدیل کے ساتھ سوالات کیے۔ علم کی جستجو میں امام مجاہد نے دور دراز کے سفر بھی اختیار کیے۔ انہوں نے عراق، شام، کوفہ اور دیگر علمی مراکز کا سفر کیا اور وہاں کے جلیل القدر صحابہ اور تابعین سے علمِ حدیث و فقہ حاصل کیا، یہاں تک کہ وہ اپنے عہد میں علمِ تفسیر کے سب سے بڑے امام تسلیم کیے گئے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

امام مجاہد بن جبر کا سب سے بڑا علمی کارنامہ قرآن مجید کی مستند تفسیر کی تدوین اور اس کی تفہیم کو عام کرنا ہے۔ تفسیری روایت میں ان کا درجہ اس قدر بلند ہے کہ جلیل القدر ائمہ، جیسے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ، فرماتے تھے: ‘اگر تمہارے پاس مجاہد سے تفسیر پہنچ جائے تو وہ تمہارے لیے کافی ہے’۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی ‘صحیح البخاری’ میں کتاب التفسیر کے اندر سب سے زیادہ اعتماد امام مجاہد کی تفسیری آراء پر کیا ہے۔ فہمِ قرآن کے علاوہ علمِ حدیث میں بھی آپ انتہائی ثقہ (معتمد)، کثیر الحدیث اور ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک حجت تسلیم کیے گئے ہیں۔ وہ شب بیداری، تقویٰ، اور کثرتِ عبادت میں اپنی مثال آپ تھے۔ علمِ دین کی ترویج اور بدعت کے رد میں آپ ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام مجاہد بن جبر رحمہ اللہ نے ایک طویل علمی زندگی گزارنے کے بعد سن 104 ہجری (کچھ روایات کے مطابق 102 یا 103 ہجری) میں مکہ مکرمہ ہی میں وفات پائی۔ آپ کی موت کا واقعہ انتہائی رشک کے قابل ہے؛ آپ مکہ مکرمہ میں حالتِ سجدہ میں تھے جب آپ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک تقریباً 83 برس تھی۔ آپ نے اپنے پیچھے تلامذہ کی ایک پوری نسل اور ‘تفسیر مجاہد’ کی شکل میں علمی میراث چھوڑی، جو آج بھی اسلامی کتب خانوں کا ایک گراں قدر سرمایہ ہے۔ تفسیری تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ مفسرین کے پیش رو کے طور پر زندہ رہے گا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام شمس الدین الذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 4، سوانح مجاہد بن جبر)
  • حافظ ابن حجر عسقلانی (تہذيب التہذيب، جلد 10)
  • ابو نعیم الاصفہانی (حليۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء، جلد 3)
  • ابن کثیر الدمشقی (البدايۃ والنہايۃ، واقعات سن 104 ہجری)
  • ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، طبقات المکیین)

مبارک اقوال و ارشادات

میں نے تین مرتبہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے مکمل قرآن مجید پیش کیا، میں ہر آیت پر رکتا اور ان سے سوال کرتا تھا کہ یہ کس بارے میں اور کب نازل ہوئی۔

حیاء کرنے والا (شرم و جھجک کا شکار) اور تکبر کرنے والا شخص کبھی علمِ دین حاصل نہیں کر سکتا۔

دل ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح ہے، جب بندہ گناہ کرتا ہے تو یہ بند ہونا شروع ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اس پر مہر لگ جاتی ہے اور یہی وہ 'ران' (زنگ) ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام مجاہد بن جبر مکی رحمہ اللہ (شاگرد ابن عباس)

لقب و کنیت: ابو الحجاج، امام المفسرین، شيخ القراء والعلماء، تابعی کبیر
قبیلہ: بنو مخزوم (قریش) - ولاءً (ملازمت اور ولاء کی نسبت سے مکی و مخزومی کہلائے)
سن پیدائش و وفات: 21 ھ – 104 ھ / 642ء – 722ء (عہدِ فاروقی میں ولادت اور عہدِ یزید بن عبد الملک میں وفات)
مقام تدفین: مکہ مکرمہ، حجازِ مقدس
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com