ائمہ اربعہ و فقہاء کرام

امام لیث بن سعد مصری

« أبو الحارث الليث بن سعد بن عبد الرحمن الفهمي القلقشندي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام لیث بن سعد 94 ہجری میں مصر کے قصبے ‘قلقشندہ’ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان اصل میں اصفہان (فارس) سے تعلق رکھتا تھا، لیکن آپ کی ولادت اور پرورش مصر میں ہوئی اور آپ قبیلہ بنو فہم کے آزاد کردہ غلام (مولیٰ) ہونے کی وجہ سے ‘فہمی’ کہلائے۔ امام لیث انتہائی ذہین، قوی حافظے کے مالک اور خوش اخلاق انسان تھے۔ بچپن ہی سے انہوں نے حصولِ علم کی طرف غیر معمولی توجہ دی اور مصر کے عظیم شیوخ سے اکتسابِ فیض کیا۔ مصر کی زرخیز علمی فضا نے ان کی فکری نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔

علمی سفر، اساتذہ اور فقہی مقام

امام لیث بن سعد نے علمِ حدیث اور فقہ کے حصول کے لیے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، بغداد اور شام کے وسیع علمی اسفار کیے۔ مدینہ منورہ میں آپ نے نافع مولیٰ ابن عمر اور امام ابن شہاب زہری جیسے جلیل القدر محدثین کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ آپ کو فقہ اور حدیث پر یکساں دسترس حاصل تھی۔ امام شافعی، جو کہ خود ایک عظیم مجتہد ہیں، کا تاریخی قول ہے کہ ‘اللیث افقہ من مالک’ یعنی لیث بن سعد امام مالک سے بھی زیادہ گہرے فقیہ تھے، مگر افسوس کہ ان کے شاگردوں نے ان کے اقوال اور فقہی آراء کو مدون نہیں کیا جس کی وجہ سے ان کا مسلک (مذہبِ لیثی) رائج نہ رہ سکا۔ اس کے باوجود، ائمہ حدیث اور فقہاء نے ہمیشہ ان کی آراء کو انتہائی معتبر مانا ہے۔

نمایاں کارنامے، سخاوت اور فضائل و مناقب

امام لیث بن سعد نہ صرف ایک عظیم عالم تھے بلکہ وہ اپنے وقت کے سب سے امیر ترین اور سخی ترین افراد میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی جاگیروں سے کثیر آمدن ہوتی تھی، لیکن ان کی سخاوت کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی زکوٰۃ ادا نہیں کی کیونکہ سال گزرنے سے پہلے ہی وہ اپنی تمام دولت غرباء، مساکین اور علمائے کرام میں تقسیم کر دیتے تھے۔ امام مالک کی مالی امداد کرنا، غریب طالب علموں کے وظائف مقرر کرنا اور مجاہدینِ اسلام کی پشت پناہی کرنا ان کا معمول تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ انتہائی خوددار تھے اور خلفائے بنو عباس (جیسے ابو جعفر المنصور اور ہارون الرشید) کے ہاں ان کا بے پناہ وقار تھا، جہاں وہ ہمیشہ کلمہ حق بلند کرتے اور مظلوموں کی سفارش فرماتے تھے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام لیث بن سعد کا وصالِ باکمال 15 شعبان 175 ہجری کو مصر میں ہوا۔ ان کی وفات پر پورے مصر میں کہرام مچ گیا اور جنازے میں عوام و خواص کا ایک جمِ غفیر شریک ہوا۔ حتیٰ کہ اس وقت کے گورنرِ مصر اور دیگر اکابرین نے بھی ان کے جنازے میں شرکت کو اپنے لیے سعادت سمجھا۔ ان کا مزارِ مبارک قاہرہ کے تاریخی قبرستان ‘قرافہ’ میں مرجعِ خلائق ہے۔ امام لیث بن سعد نے اسلامی تاریخ پر علم، تقویٰ، اور جود و سخا کی وہ مٹ مٹانے والی چھاپ چھوڑی ہے جو قیامت تک زندہ رہے گی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 8)
  • ابن حجر عسقلانی (تہذيب التہذيب، جلد 8)
  • ابن خلکان (وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان)
  • ابو نعیم اصفہانی (حلیة الأولیاء وطبقات الأصفیاء)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، واقعات 175 ھ)

مبارک اقوال و ارشادات

1. 'علم کو لکھ کر قید کرو، کیونکہ لکھنا علم کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے۔'

2. 'اگر میں کسی صاحبِ خواہش (بدعتی) کو پانی پر چلتے ہوئے بھی دیکھوں، تب بھی اس کی بات قبول نہیں کروں گا۔'

3. امام شافعی کا قول: 'لیث بن سعد امام مالک سے بھی بڑے فقیہ تھے، لیکن ان کے شاگردوں نے ان کے علم کو ضائع کر دیا (یعنی ان کے فقہی مسلک کی باقاعدہ تدوین نہیں کی)۔'

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام لیث بن سعد مصری

لقب و کنیت: ابو الحارث، امام اہل مصر، شیخ الاسلام، فقیہِ مصر، عالم دیارِ مصر
قبیلہ: بنو فہم (ولاءً، اصل تعلق اصفہان، فارس سے تھا)
سن پیدائش و وفات: 94 ھ – 15 شعبان 175 ھ / 713ء – 16 دسمبر 791ء
مقام تدفین: قرافہ صغریٰ، قاہرہ، مصر
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com