Tabi'un (تابعی)

امام عکرمہ مولیٰ ابن عباس رحمہ اللہ

« عكرمة بن عبد الله المدني البربري الهاشمي بالولاء، أبو عبد الله »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام عکرمہ مولیٰ ابن عباس رحمہ اللہ تابعین کے طبقہِ اولیٰ کے جلیل القدر امام، مفسرِ قرآن اور عظیم محدث ہیں۔ ان کا تعلق بربر نسل سے تھا اور وہ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں اپنے والد عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے وراثت میں پایا تھا، جس کے بعد انہوں نے عکرمہ کی غیر معمولی ذہانت کو دیکھ کر ان کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ ان کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیا کرتے تھے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ قرآن و حدیث کا علم حاصل کر سکیں اور کہیں اور دھیان نہ بھٹکنے پائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ علمِ الٰہی کے سمندر بن کر ابھرے۔

علمی مقام، تفقہ فی الدین اور تفسیرِ قرآن

امام عکرمہ کا علمی مرتبہ اس قدر بلند تھا کہ علمِ تفسیر میں انہیں سیدنا ابن عباس کا سچا جانشین مانا جاتا تھا۔ خود ابن عباس رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں فرماتے تھے: "عکرمہ نے مجھ سے وہ علم سیکھا ہے جو میرے پاس تھا”۔ جب وہ بصرہ، یمن یا دیگر بلادِ اسلامیہ میں تشریف لے جاتے تو ائمہ کرام اور عام مسلمان ان کے گرد علم کی پیاس بجھانے کے لیے جمع ہو جاتے۔ امام قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ "تفسیر کا سب سے بڑا عالم عکرمہ ہے”۔ انہوں نے قرآنی معانی، تاویل اور ناسخ و منسوخ کے فہم میں وہ کمال حاصل کیا کہ ائمہ متبوعین بھی ان کی آراء سے استدلال کرتے تھے۔

جرح و تعدیل اور ائمہ کا دفاع

علمِ رجال اور جرح و تعدیل کے ائمہ کے نزدیک امام عکرمہ کا مقام نہایت بلند ہے، اگرچہ بعض معاصرین نے ان پر خارجیت (اباضیہ) کی طرف میلان کا الزام لگایا، لیکن امام بخاری، امام احمد بن حنبل اور دیگر جلیل القدر محدثین نے ان الزامات کی حقیقت کو رد کیا اور انہیں ثقہ، سچا اور حجت تسلیم کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی "صحیح” میں ان کی روایات پر مکمل اعتماد کیا ہے اور ان سے کثرت سے احادیث روایت کی ہیں۔ امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ "عکرمہ علم کے سمندر تھے، ان کی دیانت پر کوئی شک نہیں”۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام عکرمہ رحمہ اللہ کا وصال 105 ہجری (کچھ روایات کے مطابق 107 ہجری) میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ ان کی وفات کا ایک دلچسپ اور تاریخی واقعہ یہ ہے کہ اسی دن مدینہ کے مشہور شاعر کثیر عِزّہ کا بھی انتقال ہوا تھا۔ اہل مدینہ نے دونوں کا جنازہ ایک ہی وقت میں اٹھایا اور لوگوں نے پکار کر کہا: "آج علم کا سب سے بڑا فقیہ اور شعر و ادب کا سب سے بڑا شاعر دونوں رخصت ہو گئے”۔ ان کی وفات سے دنیائے اسلام ایک عظیم مفسر اور معلم سے محروم ہو گئی، لیکن ان کی تفسیری روایات آج بھی امت مسلمہ کی رہنمائی کر رہی ہیں۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (تقريب التہذيب، تذکرہ عکرمہ)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 5، تذکرہ امام عکرمہ)
  • ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، طبقات التابعين فی المدينہ)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، وفاتِ عکرمہ مولیٰ ابن عباس)
  • ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ)

مبارک اقوال و ارشادات

علم حاصل کرو! کیونکہ اگر تم اپنی قوم میں معزز ہو تو یہ علم تمہاری عزت میں مزید اضافہ کرے گا، اور اگر تم معاشرے میں کمزور ہو تو علم تمہیں سربلندی اور حاکمیت عطا کرے گا۔

قرآن کی ہر آیت کے لیے ایک ظاہری پہلو ہے اور ایک باطنی گہرائی ہے، پس تم اس کی گہرائی کو پانے کی کوشش کرو۔

لوگوں کو اللہ کی کتاب کی طرف بلاؤ، اور اگر وہ گریز کریں تو ان کے سامنے سنت کا نور واضح کرو۔

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام عکرمہ مولیٰ ابن عباس رحمہ اللہ

لقب و کنیت: ابو عبد اللہ، مولیٰ ابن عباس، علامۃ المفسرین، الحافظ، فقیہ المدینہ، امام التفسیر والحدیث
قبیلہ: بربر (بنو ہاشم کے آزاد کردہ غلام / مولیٰ)
سن پیدائش و وفات: 25 ھ – 105 ھ / 645ء – 723ء (تقریباً)
مقام تدفین: مدینہ منورہ، حجاز مقدس
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com