Tabi'un (تابعی)

امام عطاء بن ابی رباح مکی رحمہ اللہ (مفتی حرم مکہ)

« أبو محمد عطاء بن أبي رباح أسلم القرشي الفهري (مولاهم) المكي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

امام عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کی ولادت عہدِ فاروقی کے اواخر یا عہدِ عثمانی کے آغاز یعنی تقریباً 27 ہجری میں یمن کے علاقے ‘جند’ میں ہوئی۔ وہ پیدائشی طور پر حبشی نسل کے غلام تھے اور مکہ مکرمہ کے معزز خاندان بنو فہر (قریش) کی ایک معزز خاتون کے زیرِ ملکیت تھے۔ بعد ازاں انہیں آزاد کر دیا گیا۔ ظاہری جسمانی ساخت کے لحاظ سے وہ کئی نقائص کا شکار تھے؛ وہ ایک آنکھ سے معذور تھے، ناک چپٹی تھی، پاؤں سے لنگڑاتے تھے اور ہاتھ بھی متاثر تھا۔ انہوں نے اس ظاہری کمزوری کو اپنی ہمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا بلکہ علم و فضل کی وہ بلندی حاصل کی جس پر دنیا رشک کرتی ہے۔ انہوں نے مکہ مکرمہ کو اپنا مسکن بنایا اور حرمِ مکی کے سائے میں پروان چڑھے۔

علمی مقام، تفقہ فی الدین اور مفتیِ حرم

امام عطاء بن ابی رباح نے فقیہِ امت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی آغوشِ تربیت میں علمِ تفسیر اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ وہ اپنے وقت کے سب سے بڑے مفتی بنے۔ ان کا علمی پایہ اتنا بلند تھا کہ خود ان کے استاد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما مکہ آنے والے سائلین سے فرماتے تھے: ‘اے مکہ والو! تم میرے پاس مسائل پوچھنے کیوں جمع ہوتے ہو جبکہ تمہارے درمیان عطاء بن ابی رباح موجود ہیں؟’ دورِ بنو امیہ میں حج کے موسم میں منادی کروا دی جاتی تھی کہ ‘عطاء بن ابی رباح کے علاوہ کوئی دوسرا شخص فتوے نہ دے۔’ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے مکہ میں عطاء بن ابی رباح سے بڑھ کر کوئی فقیہ اور جلیل القدر عالم نہیں دیکھا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب اور زہد و تقویٰ

امام عطاء رحمہ اللہ نے تقویٰ، زہد اور عبادت میں بھی بے نظیر مثال قائم کی۔ انہوں نے حرمِ مکی میں تقریباً ستر (70) سال گزارے اور اسی مسجد کے فرش پر سوتے اور جاگتے تھے۔ انہوں نے ستر سے زائد حج پیدل کیے۔ وہ ملوک و سلاطین کے سامنے انتہائی بے باکی سے کلمہِ حق کہتے تھے۔ اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک ان کی بے پناہ تعظیم کرتا تھا اور ان کے ایک اشارے پر مکہ کے فقراء کا وظیفہ جاری کر دیتا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے کبھی شاہی دربار سے کوئی تحفہ یا مالی فائدہ قبول نہیں کیا۔ امام عطاء نے مسجدِ حرام کو علم کا ایک ایسا مرکز بنا دیا تھا جہاں سے پوری اسلامی دنیا کو فقہ اور حدیث کا فیض ملا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

امام عطاء بن ابی رباح کا وصال مکہ مکرمہ میں سنہ 114 ہجری (یا بعض روایات کے مطابق 115 ہجری) میں ہوا۔ ان کی وفات سے مکہ مکرمہ علم و فضل کے ایک عظیم ترین مرکز سے محروم ہو گیا۔ ان کی وفات پر پوری اسلامی دنیا سوگوار ہوئی۔ وہ اپنے پیچھے علمِ حدیث، فقہ اور تفسیر کی ایک ایسی عظیم الشان میراث چھوڑ گئے جس پر اجتہادِ اسلامی کی مضبوط بنیادیں رکھی گئیں۔ آج بھی فقہِ اسلامی کی تدوین میں ان کے فتاویٰ اور اقوال کو حتمی سند تسلیم کیا جاتا ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، جلد 7
  • امام شمس الدین الذہبی، سیر اعلام النبلاء، جلد 5
  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 9
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، جلد 5
  • ابو نعیم اصفہانی، حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء

مبارک اقوال و ارشادات

1. "مجالسِ ذکر وہ نہیں جن میں صرف سبحان اللہ پڑھا جائے، بلکہ مجالسِ ذکر وہ ہیں جن میں حلال و حرام، نماز، روزہ، نکاح، طلاق، خرید و فروخت کے مسائل سکھائے جائیں۔"

2. "جس شخص نے دنیا کو پانے کی خاطر علم حاصل کیا، اللہ اس کے چہرے سے علم کا نور چھین لیتا ہے۔"

3. "ایک نوجوان نے مجھ سے ایسی بات بیان کی جسے میں پچاس سال پہلے سن چکا تھا، لیکن میں نے اس کی بات ایسے سنی گویا میں نے اس سے پہلے یہ بات کبھی سنی ہی نہیں تھی (یہ مجلس کا ادب ہے)۔"

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

امام عطاء بن ابی رباح مکی رحمہ اللہ (مفتی حرم مکہ)

لقب و کنیت: کنیت: ابو محمد۔ القاب: مفتیِ اعظم مکہ، امام الحرمین، فقیہِ حرم، سید التابعین، عالم البلد الحرام، عالمِ مکہ۔
قبیلہ: بنو فہر (قریش کے حلیف اور آزاد کردہ غلام تھے)۔
سن پیدائش و وفات: 27 ھ – 114 ھ / 647ء – 732ء (عہدِ عثمان غنی رضی اللہ عنہ میں ولادت اور عہدِ ہشام بن عبدالملک میں وفات)
مقام تدفین: مکہ مکرمہ (جنت المعلیٰ یا قرب و جوارِ حرم)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com