خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی ولادت با سعادت سنہ 118 ہجری میں خلافتِ امویہ کے دور میں خراسان کے مشہور شہر ‘مرو’ میں ہوئی۔ آپ کے والد ‘مبارک’ ترکی نژاد غلام تھے جو بنو حنظلہ کے ایک تاجر کے آزاد کردہ (مولیٰ) تھے، اور آپ کی والدہ کا تعلق ہمدان (فارس) کے ایک معزز خاندان سے تھا۔ آپ کا بچپن انتہائی پاکیزہ ماحول میں گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی سے غیر معمولی حفظ و ذکاوت اور علمی شغف سے نوازا تھا۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر مرو میں حاصل کی، جہاں آپ نے قرآن مجید حفظ کیا اور عربی زبان و ادب پر مکمل عبور حاصل کیا۔ آپ کی توبہ اور زہد کی طرف مائل ہونے کا واقعہ بھی بہت مشہور ہے، جس کے بعد آپ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین، زہد اور جہاد کے لیے وقف کر دی۔
تحصیلِ علم، علمی اسفار اور شیوخ
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ علمِ حدیث اور فقہ کی جستجو میں تاریخِ اسلام کے عظیم ترین مسافروں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے حصولِ علم کے لیے اسلامی دنیا کے تمام بڑے مراکز بشمول حرمین شریفین (مکہ و مدینہ)، عراق (کوفہ و بصرہ)، شام، مصر اور یمن کے دور دراز اسفار کیے۔ اس دوران آپ نے اپنے وقت کے جلیل القدر محدثین اور فقہاء سے کسبِ فیض کیا۔ آپ نے امام اعظم ابو حنیفہ سے فقہ سیکھی اور ان کے مخرّج اقوال کو مدون کیا۔ امام مالک بن انس سے مدینہ منورہ میں حدیث کی سماعت کی اور ‘مؤطا’ کے راوی بنے۔ اس کے علاوہ سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، امام اوزاعی اور سلیمان الاعمش جیسے کبار ائمہ آپ کے اساتذہ میں شامل تھے۔ آپ کی علمی جلالت کا یہ عالم تھا کہ آپ کے اساتذہ بھی بعض اوقات علمی مسائل میں آپ کی رائے کی طرف رجوع کرتے تھے۔
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
امام عبد اللہ بن مبارک ایک یکتائے روزگار شخصیت تھے جن میں اللہ تعالیٰ نے تمام محاسن و کمالات جمع فرما دیے تھے۔ امام ذہبی لکھتے ہیں کہ آپ علم، فقہ، ادب، سخاوت، زہد، شجاعت اور فصاحت کا حسین امتزاج تھے۔ آپ گرمیوں میں جہاد فرماتے اور سردیوں میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرتے تھے۔ آپ ایک متمول تاجر بھی تھے، لیکن اپنی تجارت کا تمام تر منافع غرباء، مساکین اور خاص طور پر طلبۂ حدیث اور علماء پر خرچ کر دیتے تھے۔ آپ نے اسلامی تاریخ کی پہلی مستند کتاب ‘کتاب الزہد والرقائق’ تصنیف کی، جو تصوف اور تزکیہ نفس کے باب میں ایک اساسی مآخذ ہے۔ اس کے علاوہ ‘کتاب الجہاد’ لکھ کر آپ نے مجاہدین کے لیے آداب و احکام مرتب کیے۔ جب میدانِ جنگ میں رومیوں کے خلاف صف آراء ہوتے تو اپنی شجاعت کے جوہر دکھاتے اور عام سپاہی کی طرح لڑتے۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
امام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کے آخری ایام بھی ثغور (اسلامی سرحدوں) پر جہاد اور اشاعتِ علم میں گزارے۔ سنہ 181 ہجری (بمطابق 797 عیسوی) میں جب آپ رومیوں کے خلاف ایک غزوے سے واپس لوٹ رہے تھے، تو راستے میں عراق کے شہر ‘ہیت’ میں علیل ہو گئے اور وہیں 63 سال کی عمر میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ آپ کی وفات کی خبر جب عباسی خلیفہ ہارون الرشید کو پہنچی تو اس نے انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ‘آج دنیا سے علماء کا سردار رخصت ہو گیا’۔ آپ کی علمی اور اخلاقی میراث آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ائمۂ حدیث نے متفقہ طور پر آپ کو ‘امیر المؤمنین فی الحدیث’ تسلیم کیا ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- امام شمس الدین الذہبی، (سیر اعلام النبلاء، جلد 8، سوانح عبد اللہ بن المبارک)
- حافظ ابن حجر عسقلانی، (تہذیب التہذیب، جلد 5)
- ابن کثیر دمشقی، (البدایہ والنہایہ، سنہ 181 ھ کے واقعات)
- امام ابن جوزی، (صفۃ الصفوۃ، حالات عبد اللہ بن المبارک)
مبارک اقوال و ارشادات
1. اسناد دین کا حصہ ہیں، اگر اسناد (روایت کا سلسلہ) نہ ہوتیں تو جس کا جو جی چاہتا وہ دین کے نام پر کہہ دیتا۔
2. میں نے تیس سال ادب (اخلاقیات و تربیت) سیکھنے میں گزارے اور بیس سال علم حاصل کرنے میں صرف کیے۔
3. میں نبوت کے درجے کے بعد علم کو عام کرنے اور پھیلانے سے بڑھ کر کسی مرتبے کو فضیلت والا نہیں جانتا۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
