Sahaba (صحابی)

حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ (رابح البیع)

« أبو يحيى صهيب بن سنان بن خالد بن عبد عمرو النمري الرومي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو نمر بن قاسط نامی عرب قبیلے سے تھا۔ ان کے والد سنان بن خالد، کسریٰ فارس کی طرف سے بصرہ کے قریب ابلہ کے گورنر تھے جہاں وہ شاہی محلات میں عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے۔ ابھی صہیب رومی بچپن کے دور میں ہی تھے کہ رومیوں نے اس علاقے پر حملہ کیا، بستی کو لوٹا اور بہت سے بچوں کے ساتھ صہیب کو بھی قیدی بنا کر لے گئے۔ رومی سلطنت میں پرورش پانے کی وجہ سے آپ نے رومی زبان اور لہجہ سیکھ لیا اور اپنی عربی زبان بھول گئے۔

برسوں بعد مکہ کے ایک تاجر عبد اللہ بن جدعان نے انہیں رومیوں سے خریدا، مکہ لا کر آزاد کیا اور تجارت میں اپنا شریک بنا لیا۔ صہیب رومی نے مکہ میں اپنی محنت اور ذہانت سے بہت جلد ایک بڑا تجارتی مقام اور دولت حاصل کر لی۔ چونکہ ان کے لہجے میں رومی اثر نمایاں تھا، اس لیے مکہ والے انہیں ‘رومی’ کہنے لگے۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

جب مکہ میں اسلام کی دعوت کا آغاز ہوا، تو حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ حق کی تلاش میں نکلے۔ وہ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ایک ہی دن دارِ ارقم کے دروازے پر پہنچے اور رسول اللہ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے۔ ان کا شمار ‘سابقین اولین’ (سب سے پہلے اسلام لانے والے جلیل القدر صحابہ) میں ہوتا ہے۔

قبولِ اسلام کے بعد مشرکین مکہ نے ان پر بے پناہ مظالم ڈھائے۔ چونکہ مکہ میں ان کا کوئی خاندانی پشت پناہ نہیں تھا، اس لیے قریش نے انہیں سخت جسمانی اور ذہنی اذیتیں دیں، لیکن صہیب کے پائے استقلال میں ذرہ برابر لغزش نہ آئی۔ ہجرتِ مدینہ کے وقت قریش نے ان کا گھیراؤ کر لیا۔ حضرت صہیب نے اپنی زندگی بھر کی کمائی ہوئی تمام دولت مکہ کے مشرکین کے حوالے کر دی تاکہ وہ انہیں بحفاظت مدینہ ہجرت کرنے دیں۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں دیکھ کر مسکراتے ہوئے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: "رَبِحَ الْبَيْعُ أَبَا يَحْيَى، رَبِحَ الْبَيْعُ أَبَا يَحْيَى” (اے ابو یحییٰ! تمہاری تجارت نفع بخش رہی)۔ اسی موقع پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی: "وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ” (اور لوگوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے)۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد مواخات کے تحت حضرت حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھائی چارہ قائم کیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے شانہ بشانہ تمام غزوات بشمول بدر، احد، اور خندق میں شریک رہے۔ وہ ایک نہایت ماہر تیر انداز تھے اور میدانِ جنگ میں جرات و بہادری کی علامت سمجھے جاتے تھے۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند تھا۔ جب امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور وہ شدید زخمی ہوئے، تو انہوں نے اپنی وفات سے قبل حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ نئے خلیفہ کے انتخاب (شوریٰ کے فیصلے) تک مسجد نبوی میں نمازوں کی امامت کروائیں۔ یہ ان کی امانت، دیانت اور مسلمانوں کے ہاں عظیم الشان مرتبے کی واضح ترین تاریخی دلیل ہے، کیونکہ انہوں نے خلافت کے عبوری دور میں سلطنتِ اسلامیہ کی سب سے بڑی مقتدا صف سنبھالی۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

جنابِ صہیب رومی رضی اللہ عنہ کا وصال شوال 38 ہجری (کچھ روایات کے مطابق 39 ہجری) میں خلافتِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ ان کی نمازِ جنازہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور انہیں مدینہ کے تاریخی قبرستان ‘جنت البقیع’ میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی زندگی ایثار، قربانی اور اخلاص کی ایک ایسی لازوال داستان ہے جس نے رہتی دنیا تک مسلمانوں کو یہ سبق دیا کہ عقیدے اور ایمان کے تحفظ کے لیے دنیا کی بڑی سے بڑی دولت کو بھی قربان کیا جا سکتا ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة في تمييز الصحابة، جلد 3، ترجمہ صهيب بن سنان)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 2، سوانح صہیب بن سنان الرومی)
  • ابن الاثیر الجزری (اسد الغابة في معرفة الصحابة، جلد 3)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 7)

مبارک اقوال و ارشادات

1. رسول اللہ ﷺ نے جس غزوے کا بھی ارادہ فرمایا، میں اس میں حاضر رہا، اور جہاں بھی کوئی بیعت ہوئی میں وہاں موجود تھا۔ کوئی ایسا خوفناک موقع نہیں آیا جس میں میں رسول اللہ ﷺ کے آگے یا دائیں بائیں موجود نہ رہا ہوں۔

2. جب قریش نے ہجرت کے وقت میرا راستہ روکا، تو میں نے اپنے ترکش سے تیر نکالے اور کہا: تم جانتے ہو کہ میں تم میں سب سے بہترین تیر انداز ہوں، جب تک میرا ایک بھی تیر باقی ہے تم میرے قریب نہیں آ سکتے، اور اس کے بعد میں تلوار سے لڑوں گا۔ لیکن اگر تم میرا مال لے لو تو کیا میرا راستہ چھوڑ دو گے؟ انہوں نے مال لے کر مجھے چھوڑ دیا، اور میں نے دین بچا لیا۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ (رابح البیع)

لقب و کنیت: ابو یحییٰ، رابح البیع (منافع بخش سودا کرنے والا)، سابق الروم (رومیوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے)
قبیلہ: بنو نمر بن قاسط (اصل عرب نژاد، رومی سلطنت میں پرورش پانے کی وجہ سے رومی کہلائے)
سن پیدائش و وفات: 35 قبل ہجرت – 38 ہجری / 587ء – 659ء
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com