Sahaba (صحابی)

حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ (بیعت عقبہ)

« البراء بن معرور بن صخر بن خنساء بن سنان بن عبيد بن عدي بن غنم بن كعب بن سلمة الخزرجي الأنصاري »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے قبیلہ خزرج کی ایک نامور شاخ بنو سلمہ سے تھا۔ وہ اپنے قبیلے کے جلیل القدر سردار، انتہائی بااثر، فصیح اللسان اور جرات مند شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی ولادت ہجرتِ نبوی سے تقریباً ساٹھ سال قبل مدینہ میں ہوئی۔ زمانہ جاہلیت میں بھی وہ اپنی فہم و فراست، سخاوت اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتے تھے اور یثرب کے معزز ترین اشراف میں ان کا شمار ہوتا تھا۔

قبولِ اسلام اور بیعتِ عقبہ میں کردار

جب مدینہ منورہ میں اسلام کی دعوت پہنچنا شروع ہوئی، تو حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ ان اولین مقتدر شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اس حق کو دل وجان سے تسلیم کیا۔ انہوں نے بیعتِ عقبہ ثانیہ میں تاریخی کردار ادا کیا۔ مکہ مکرمہ کی وادی عقبہ میں ستر سے زائد انصار مدینہ نے جب خفیہ طور پر رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی، تو حضرت براء بن معرور پہلے شخص تھے جنہوں نے سب سے پہلے جرات مندانہ کلام کیا اور رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر سب سے پہلے بیعت کرنے کا عظیم الشان شرف حاصل کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بنو سلمہ کا ‘نقیب’ (نگران) نامزد فرمایا اور وہ نقبائے انصار کے سربراہوں میں شمار ہوئے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کو اسلام کی تاریخ میں کئی منفرد اعزازات حاصل ہیں۔ ان میں سب سے اہم اعزاز یہ ہے کہ انہوں نے تحویلِ قبلہ کا باقاعدہ حکم نازل ہونے سے قبل ہی، اپنے اجتہاد سے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا شروع کر دی تھی، کیونکہ ان کا دل بیت المقدس پر بیت اللہ کو ترجیح دیتا تھا۔ جب انہوں نے مکہ کے سفر میں رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے مسکرا کر فرمایا: ‘تم ایک اچھے قبلے پر تھے، کاش تم کچھ دیر صبر کرتے۔’ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں عارضی طور پر دوبارہ بیت المقدس کی طرف رخ کیا۔ وہ پہلے شخص ہیں جن کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اپنے مال کے تہائی حصے (One-third) کی وصیت رسول اللہ ﷺ کے حق میں کی، جسے آپ ﷺ نے قبول فرما کر دوبارہ ان کے بیٹوں میں تقسیم فرما دیا۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ کا وصال مدینہ منورہ کی طرف ہجرتِ نبوی کے آغاز کے عین وقت، صفر سن 1 ہجری میں ہوا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے محض ایک ماہ قبل رحلت فرما گئے۔ وفات کے وقت انہوں نے وصیت کی تھی کہ ان کا چہرہ قبر میں کعبہ شریف کی طرف رکھا جائے۔ جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو آپ ﷺ ان کے اہل خانہ کے ہمراہ ان کی قبر پر تشریف لے گئے، ان کی قبر پر صفیں قائم کیں، اور چار تکبیرات کے ساتھ ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة، ترجمہ البراء بن معرور)
  • امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد اول)
  • ابن الاثیر (اسد الغابة فی معرفة الصحابة)
  • ابن کثیر (البداية والنهاية، باب بیعتِ عقبہ ثانیہ)
  • ابن سعد (الطبقات الکبری، طبقات البدريين من الانصار)

مبارک اقوال و ارشادات

والذي بعثك بالحق، لنمنعنك مما نمنع منه أزرنا، فبايعنا يا رسول الله، فنحن والله أبناء الحروب وأهل الحلقة ورثناها كابراً عن كابر (قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! ہم آپ کی حفاظت ان چیزوں سے کریں گے جن سے اپنے اہل و عیال کی کرتے ہیں، پس ہم سے بیعت لیجئے!)

میری وصیت یہ ہے کہ موت کے وقت میرا رخ کعبہ کی طرف کر دیا جائے اور میرے تہائی مال کی وصیت رسول اللہ ﷺ کے لیے ہے، وہ جہاں چاہیں اسے استعمال فرمائیں۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت براء بن معرور رضی اللہ عنہ (بیعت عقبہ)

لقب و کنیت: ابو بشر، نقيب بني سلمة، سيد النقباء، معززِ خزرج
قبیلہ: انصار، قبیلہ خزرج، بنو سلمہ
سن پیدائش و وفات: وفات: صفر 1ھ / ستمبر 622ء (ہجرتِ مدینہ سے چند روز قبل)
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ (انصار کے پہلے صحابی جن کی قبر پر رسول اللہ ﷺ نے نمازِ جنازہ پڑھی)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com