خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی
حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا تعلق مدینہ منورہ کے انصار قبیلے بنو خزرج کی شاخ بنو نجار سے تھا۔ بنو نجار وہ قبیلہ ہے جسے حضور اکرم ﷺ کے نانا کا خاندان ہونے کا شرف حاصل تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ مشہور صحابی اور خادمِ رسول حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے سگے چچا تھے۔ ان کی ولادت ہجرتِ نبوی سے قبل مدینہ منورہ میں ہوئی۔ وہ اپنے قبیلے کے ایک معزز، باغیرت اور دلیر انسان تھے جن کا اخلاق اسلام لانے سے پہلے ہی انتہائی بلند اور مثالی تھا۔
قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات
حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں اسلام کی روشنی پہنچتے ہی داعیِ اسلام حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے دل و جان سے آپ ﷺ کی اطاعت کا طوق گلے میں سجایا۔ سن 2 ہجری میں جب غزوہ بدر کا معرکہ پیش آیا، تو چونکہ مسلمان جنگ کی نیت سے نہیں بلکہ قریش کے قافلے کے ارادے سے نکلے تھے، اس لیے حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ اس معرکے میں شریک نہ ہو سکے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ ایک عظیم الشان معرکہ تھا جس میں اللہ نے حق اور باطل کے درمیان فیصلہ فرما دیا، تو انہیں شریک نہ ہونے کا شدید افسوس اور ملال ہوا۔ انہوں نے اسی وقت بارگاہِ رسالت میں اور اپنے رب سے یہ عہد کیا: "اللہ کی قسم! اگر اللہ نے مجھے دوبارہ مشرکین کے خلاف کسی معرکے میں حاضر ہونے کا موقع دیا، تو اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ میں کتنا سخت وار کرتا ہوں اور کیا کارنامہ انجام دیتا ہوں!”
نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب
غزوہ احد (3 ہجری) میں حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کے عزم و ہمت اور شجاعت کا وہ بے مثال منظر دیکھنے کو ملا جو تاریخِ اسلام کا سنہرا باب بن گیا۔ دورانِ جنگ جب مسلمانوں کا ایک دستہ مورچہ چھوڑ گیا اور جنگ کا پانسہ پلٹ گیا، تو مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی اور یہ افواہ اڑ گئی کہ رسول اللہ ﷺ شہید کر دیے گئے ہیں۔ اس نازک موڑ پر بہت سے صحابہ ہمت ہار کر بیٹھ گئے۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ حضرت عمر فاروق اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہم جیسے جلیل القدر صحابہ بھی رنج و غم کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ آپ نے پکار کر پوچھا: "تم لوگ یہاں کیوں بیٹھے ہو؟” انہوں نے جواب دیا: "رسول اللہ ﷺ شہید ہو چکے ہیں۔” حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کمالِ ایمان اور ایمانی جذبے سے لبریز ہو کر تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: "پھر ان کے بعد زندہ رہ کر تم کیا کرو گے؟ اٹھو! اور اسی راہ میں مر مٹو جس پر اللہ کے رسول ﷺ نے جان دی ہے!”
اس کے بعد انہوں نے تلوار میان سے نکالی اور مشرکین کے لشکر پر ٹوٹ پڑے۔ راستے میں انہیں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ملے تو انس بن نضر نے پکار کر کہا: "اے سعد! ربِ کعبہ کی قسم! مجھے احد کے پہاڑ کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے!” حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انس بن نضر نے جو بہادری دکھائی، اس کی طاقت مجھ میں نہیں تھی۔ انہوں نے اکیلے ہی دشمن کی صفوں کو چیر کر رکھ دیا۔ اسی عظیم الشان قربانی اور وفاداری کے متعلق قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی:
"مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ…”
(مومنوں میں کچھ ایسے مرد بھی ہیں جنہوں نے جو عہد اللہ سے کیا تھا اسے سچ کر دکھایا، پھر ان میں سے بعض نے اپنی نذر پوری کر دی اور بعض راہ تک رہے ہیں)۔
وصال مبارک اور تاریخی میراث
حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ احد کے میدان میں بہادری کی داستان رقم کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ جب جنگ ختم ہوئی اور شہداء کی تلاش شروع ہوئی، تو ان کی لاش مبارک کی حالت یہ تھی کہ مشرکین نے ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے تھے اور ان کا مثلہ کیا تھا۔ ان کے جسم پر تلواروں، تیروں اور نیزوں کے 80 سے زائد زخم تھے۔ جسم کی حالت اس قدر بگڑ چکی تھی کہ کوئی بھی انہیں پہچان نہیں پا رہا تھا۔ آخر کار ان کی سگی بہن حضرت ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے انہیں ان کی انگلیوں کے پوروں (fingertips) اور ایک تل کی نشانی سے پہچانا۔ آپ کو جبلِ احد کے دامن میں دیگر شہدائے احد کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کا یہ ایثار اور اپنے عہد پر سچائی کا مظاہرہ رہتی دنیا تک کے لیے شمعِ فروزاں ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن حجر عسقلانی (الاصابة فی تمييز الصحابة، جلد 1، تذکرہ انس بن نضر)
- امام ذہبی (سير أعلام النبلاء، جلد 1، سیرت صحابہ انصار)
- ابن الاثیر الجزری (اسد الغابة فی معرفة الصحابة، باب الألف)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 4، غزوہ احد کے احوال)
- صحیح البخاری وصحیح مسلم (کتاب الجہاد والسیر، باب غزوۃ احد)
مبارک اقوال و ارشادات
اگر اللہ نے مجھے مشرکین کے خلاف کسی جنگ میں حاضر کیا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کارنامہ انجام دیتا ہوں!
اے اللہ! میں اپنے ان ساتھیوں کی لغزش (پسپائی) پر تیرے حضور عذر پیش کرتا ہوں اور ان مشرکین کے عمل سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔
ہائے! جنت کی خوشبو! اے سعد بن معاذ! مجھے احد کے پہاڑ کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات
یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:
