Sahaba (صحابی)

حضرت ابو ہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ (حافظ احادیث نبوی)

« أبو هريرة عبد الرحمن بن صخر الدوسي الأزدي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اصل نام قبولِ اسلام کے بعد ‘عبدالرحمن بن صخر دوسی’ طے پایا۔ جاہلیت میں آپ کا نام عبد شمس یا کردوس تھا۔ آپ کا تعلق یمن کے معزز اور جنگجو قبیلے ‘دوس’ سے تھا، جو کہ ازد شنؤہ کی ایک مشہور شاخ ہے۔ آپ مکہ سے دور یمن کے پہاڑی علاقوں میں پروان چڑھے۔ بچپن ہی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا، جس کی وجہ سے انتہائی عسرت اور یتیمی کی زندگی گزاری۔ بکریاں چرانے کے دوران آپ کو ایک بلی ملی جس سے آپ کو بے پناہ انسیت ہو گئی، اسی مناسبت سے آپ کی کنیت ‘ابو ہریرہ’ (بلیوں والا) پڑ گئی، اور یہ کنیت اتنی مشہور ہوئی کہ آپ کا اصل نام اس کے پیچھے چھپ گیا۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے قبیلے کے سردار حضرت طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ کی دعوت پر یمن ہی میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ تاہم، مدینہ ہجرت کرنے کا موقع انہیں 7 ہجری میں ملا۔ جب آپ مدینہ پہنچے تو نبی کریم ﷺ اس وقت غزوہ خیبر کے محاذ پر تھے۔ آپ فوراً خیبر روانہ ہوئے اور وہاں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر بیعتِ جہاد کی اور وہیں سے رسول اللہ ﷺ کی معیت کا وہ عظیم سفر شروع ہوا جس نے تاریخِ اسلام کا دھارا بدل دیا۔ مدینہ واپسی پر آپ نے گھر بار بنانے کے بجائے مسجد نبوی کے چبوترے ‘صفہ’ کو اپنا ٹھکانہ بنایا اور ‘اصحابِ صفہ’ میں شامل ہو کر ہمہ وقت خدمتِ نبوی ﷺ کے لیے وقف ہو گئے۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ حفظِ حدیث اور حفاظتِ سنت ہے۔ آپ نے انتہائی غربت، فاقہ کشی اور بھوک کی شدت برداشت کرتے ہوئے بھی درِ رسول ﷺ کو نہیں چھوڑا۔ آپ فرماتے ہیں کہ مہاجرین بازاروں میں تجارت میں اور انصار اپنے باغات کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتے تھے، جبکہ ابو ہریرہ اپنا پیٹ بھرنے کی فکر سے آزاد ہو کر ہر وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتا اور وہ باتیں یاد کرتا جو دوسرے یاد نہیں رکھ پاتے تھے۔ آپ کے حافظے کے متعلق ایک مشہور معجزہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا کمبل پھیلانے کا حکم دیا، پھر اس پر دعائیہ کلمات پڑھے اور فرمایا کہ اسے اپنے سینے سے لگا لو۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں زندگی میں کبھی کوئی بات نہیں بھولا۔ آپ نے کثیر تعداد میں احادیث روایت کیں جن کی صحت پر امت کا اجماع ہے۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

عہدِ فاروقی اور عہدِ عثمانی میں آپ نے اشاعتِ علم اور تعلیم و تربیت کا فریضہ سرانجام دیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت میں آپ کچھ عرصے کے لیے مدینہ منورہ کے گورنر بھی رہے۔ عمر کے آخری حصے میں آپ مدینہ کے قریب عقیق نامی وادی میں اپنے گھر میں مقیم ہو گئے تھے اور وہیں علیل ہوئے۔ آپ نے 59 ہجری (بعض روایات کے مطابق 57 ہجری) میں وفات پائی۔ بوقتِ وصال آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، جب وجہ پوچھی گئی تو فرمایا: ‘میں دنیا پر نہیں رو رہا، بلکہ سفر لمبا ہے اور زادِ راہ بہت تھوڑا ہے’۔ آپ کے جنازے کی نماز مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ بن ابی سفیان نے پڑھائی، اور حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم جیسی جلیل القدر شخصیات نے آپ کو جنت البقیع کے سپرد کیا۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن حجر عسقلانی، الاصابة فی تمييز الصحابة، جلد 7، تذکرہ ابو ہریرہ دوسی۔
  • امام شمس الدین الذہبی، سير أعلام النبلاء، جلد 2، سوانح حضرت ابو ہریرہ۔
  • ابن الاثیر الجزری، اسد الغابة فی معرفة الصحابة، جلد 5، باب الکنی۔
  • ابن کثیر الدمشقی، البداية والنهاية، جلد 8، واقعات سال 59 ہجری۔

مبارک اقوال و ارشادات

1۔ میں نے اپنی رات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے: ایک تہائی حصے میں نماز پڑھتا ہوں، ایک تہائی سوتا ہوں اور ایک تہائی میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث یاد کرتا ہوں۔

2۔ علم ایک ایسا خزانہ ہے جس کو خرچ کرنے سے وہ گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔

3۔ لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ بہت احادیث بیان کرتا ہے، حالانکہ اللہ کی قسم! اگر قرآن کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کبھی ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا (اشارہ سورہ البقرہ کی آیت 159 کی طرف ہے)۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت ابو ہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ (حافظ احادیث نبوی)

لقب و کنیت: ابو ہریرہ (کنیہ)، حافظ الامت، سید الحفاظ، ذو النورین (یمنی پس منظر کی نسبت سے)
قبیلہ: قبیلہ دوس (ازد، یمن)
سن پیدائش و وفات: 19 قبل ہجرت – 59 ھ / 603ء – 679ء
مقام تدفین: جنت البقیع، مدینہ منورہ
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com