Sahaba (صحابی)

حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کا مکمل نام عامر بن عبد اللہ بن الجراح الفہری القرشی تھا۔ آپ کا تعلق قریش کے بنو فہر قبیلے سے تھا، جو مکہ کے معزز قبائل میں سے ایک تھا۔ آپ کے والد کا نام عبد اللہ بن الجراح تھا۔ آپ کی کنیت "ابو عبیدہ” تھی۔ آپ کا نسب نویں پشت میں نبی کریم ﷺ کے نسب سے جا ملتا ہے۔ آپ کا شمار سابقون الاولون یعنی اسلام قبول کرنے والے اولین افراد میں ہوتا ہے۔

آپ رضی اللہ عنہ کی سب سے نمایاں خصوصیت جس نے آپ کو امت میں ممتاز مقام دلایا، وہ آپ کا "امین الامۃ” (امت کا امانتدار) کا لقب تھا، جو خود رسول اللہ ﷺ نے عطا فرمایا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے کہ نجران سے ایک وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور درخواست کی کہ وہ ان کے ساتھ ایک ایسے شخص کو بھیجیں جو ان کے مالی معاملات میں امانتدار ہو، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "میں تمہارے ساتھ ایک انتہائی امانتدار شخص کو بھیجوں گا۔” صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کے لیے بڑی تمنا کی، لیکن آپ ﷺ نے حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: "یہ اس امت کے امین ہیں۔” یہ لقب آپ کی دیانت، امانت اور ہر قسم کے تعصب سے پاک سیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ بعثتِ نبوی سے قبل بھی اپنی سچائی، امانت داری اور بلند اخلاق کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کے ابتدائی دور میں، جب رسول اللہ ﷺ نے دارِ ارقم میں دعوت دینا شروع نہیں کی تھی، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ ان آٹھ افراد میں شامل تھے جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کو کفارِ مکہ کی طرف سے سخت مظالم کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ کے پائے استقامت میں ذرہ برابر بھی لغزش نہیں آئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا اور ہر حال میں دینِ حق پر ثابت قدم رہے۔

آپ رضی اللہ عنہ نے تمام غزوات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شرکت کی اور ہمیشہ اپنی شجاعت، وفاداری اور فداکاری کا لوہا منوایا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد، آپ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مؤاخات (بھائی چارہ) قائم فرمائی۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی زندگی اسلامی تاریخ میں جہاد، قیادت اور امانت کی روشن مثال ہے۔ آپ کے نمایاں کارنامے اور خدمات درج ذیل ہیں:

  • غزوہ بدر: اس پہلے بڑے معرکے میں آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی ایمانی غیرت کا وہ عظیم مظاہرہ کیا جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو گیا۔ آپ کے والد عبد اللہ بن الجراح، جو اس وقت کفر کی حالت میں تھے، مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے انہیں نظر انداز کرنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ بار بار آپ کے سامنے آئے تو ایمانی جوش میں اپنے والد کو قتل کر دیا۔ اس واقعے کو مفسرین نے سورۃ المجادلہ کی آیت نمبر 22 کی تفسیر کے طور پر پیش کیا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "تُم ایسی کوئی قوم نہ پاؤ گے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور اُن لوگوں سے محبت کرتی ہو جنہوں نے اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ اُن کے باپ ہوں یا اُن کے بیٹے ہوں یا اُن کے بھائی ہوں یا اُن کے قریبی رشتہ دار ہوں۔”
  • غزوہ احد: اس غزوہ میں جب مسلمانوں کو عارضی پسپائی ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کو زخم آئے، تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ ان چند صحابہ کرام میں سے تھے جو نبی کریم ﷺ کے گرد سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ جب آپ ﷺ کے چہرے مبارک میں خود (لوہے کا ٹوپ) کی کڑیاں پیوست ہو گئیں تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، پہلے اپنی دانتوں سے ایک کڑی نکالی اور اس کے نتیجے میں ان کا ایک دانت ٹوٹ گیا۔ پھر دوسری کڑی بھی اسی طرح نکالی اور دوسرا دانت بھی شہید ہو گیا۔ یہ واقعہ آپ کی رسول اللہ ﷺ سے بے پناہ محبت اور فداکاری کا ثبوت ہے۔
  • دیگر غزوات اور مہمات: آپ رضی اللہ عنہ نے غزوہ خندق، صلح حدیبیہ، غزوہ خیبر، فتح مکہ، غزوہ حنین اور غزوہ طائف سمیت تمام غزوات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ آپ نے بہت سی سریات اور فوجی مہمات کی بھی قیادت کی۔ ایک مرتبہ جب آپ ایک سریہ کے امیر بنائے گئے اور لشکر میں کھانے کی کمی پڑ گئی تو آپ نے اپنی قوم کو بٹھا کر مچھلیاں پکڑوا کر کھلائیں۔
  • شام کی فتوحات کی قیادت: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب اسلامی فتوحات کا آغاز ہوا تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو شام کی جانب بھیجے جانے والے لشکروں میں سے ایک کا امیر مقرر کیا گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں، آپ کو شام میں اسلامی افواج کا سپہ سالارِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ آپ کی قیادت میں دمشق، حمص، بعلبک، حلب اور انطاکیہ سمیت شام کے کئی اہم شہر فتح ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انتہائی عاجزی، تقویٰ اور بہترین فوجی حکمت عملی کے ساتھ یہ فتوحات سرانجام دیں۔ جنگ یرموک میں آپ کی قیادت نے اسلامی تاریخ میں ایک نمایاں باب کا اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں شام میں رومیوں کی قوت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ آپ ایک سچے سالار تھے جو اپنے سپاہیوں کا بہت خیال رکھتے تھے اور اپنے قول و فعل سے دوسروں کے لیے مثال بنتے تھے۔

میراث اور وصال

حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے شام میں اپنی قیادت کے دوران عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم کیا جس سے مقامی آبادی بھی متاثر ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہ انتہائی زاہد اور دنیا سے بے رغبت شخصیت کے مالک تھے۔ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے شام کا دورہ کیا اور آپ کے گھر گئے تو دیکھا کہ آپ کے پاس معمولی سامان، ایک تلوار، ایک ڈھال اور تھوڑا سا بستر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ نے دنیا میں اپنے لیے کچھ نہیں بنایا، جس پر آپ نے فرمایا کہ "یہ دنیا فنا ہونے والی ہے، ہمارا ٹھکانہ آخرت ہے۔” یہ آپ کے زہد و تقویٰ اور دنیا سے بے رغبتی کا عمدہ نمونہ تھا۔

آپ رضی اللہ عنہ کا وصال 18 ہجری میں "طاعون عمواس” (عمواس کی وبا) کے دوران ہوا، جب شام میں ایک شدید وبا پھیلی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں مدینہ بلانا چاہا تاکہ وہ وبا سے بچ سکیں، لیکن حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ "میں اللہ کے حکم سے فرار نہیں ہو سکتا، میں ان مسلمانوں کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گا جن کے ساتھ میں ہوں۔” چنانچہ آپ نے وبا زدہ علاقے میں رہ کر لوگوں کی خدمت کی اور بالآخر خود بھی اسی وبا کا شکار ہو گئے۔ وصال سے قبل آپ نے مسلمانوں کو تقویٰ، باہمی اتحاد، اپنے حکمرانوں کی اطاعت اور دین پر ثابت قدم رہنے کی وصیت فرمائی۔

آپ رضی اللہ عنہ کو شام کے علاقے ‘غور’ (اردن میں) کے مقام عمواس یا بیسان کے قریب دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات کے بعد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ کی امانت، دیانت، شجاعت، اور دنیا سے بے رغبتی کی وجہ سے آپ کا نام تاریخ اسلام میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور آپ کا لقب "امین الامۃ” آپ کی سیرت کا آئینہ دار رہے گا۔

مستند حوالہ جات

  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، دارالفکر، بیروت۔
  • طبری، تاریخ الرسل والملوک، دارالتراث، بیروت۔
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، مکتبۃ مصطفی البابی الحلبی، مصر۔
  • ابن الاثیر، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، دارالفکر، بیروت۔
  • ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، دارالجیل، بیروت۔
  • الذہبی، سیر اعلام النبلاء، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت۔
  • صحیح بخاری، کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب ابی عبیدۃ بن الجراح۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com