مسلم سائنسدان و فلاسفہ

ابو عبد اللہ محمد الادریسی (عظیم نقشہ ساز و جغرافیہ دان)

« أبو عبد الله محمد بن محمد بن عبد الله بن إدريس الإدريسي الحسني القرطبي »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر، ولادت اور اوائل زندگی

الشریف الادریسی کا پورا نام محمد بن محمد بن عبد اللہ بن ادریس الادریسی الحسنی القرطبی ہے۔ وہ 493 ہجری (1100ء) میں مراکش کے شہر سبتہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق مراکش کے عظیم حکمران خاندان ‘بنو ادریس’ سے ہے جو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسل سے حسنی سادات ہیں۔ الشریف الادریسی نے اپنی ابتدائی تعلیم اس وقت کے عظیم ترین علمی مرکز قرطبہ (اندلس) میں حاصل کی، جہاں انہوں نے فقہ، تاریخ، ادب کے ساتھ ساتھ ہیئت (فلکیات)، جغرافیا، ہندسہ اور نباتیات جیسے سائنسی علوم میں مہارت تامہ حاصل کی۔

قبولِ اسلام اور ابتدائی خدمات

چونکہ الشریف الادریسی ایک معزز حسنی سید گھرانے میں پیدا ہوئے، اس لیے ان کی پرورش خالص اسلامی و علمی ماحول میں ہوئی۔ انہوں نے جوانی میں ہی وسیع علمی اسفار شروع کیے۔ انہوں نے حجاز مقدس، مصر، شمالی افریقہ، اندلس، فرانس، اور انگلستان کے ساحلوں تک کا سفر کیا۔ ان اسفار کا بنیادی مقصد زمین کی حقیقت، مختلف خطوں کی آب و ہوا، اور وہاں کے نباتات کا خود مشاہدہ کرنا تھا، جس نے انہیں اس دور کا سب سے بڑا جغرافیہ دان اور سیاح بنا دیا۔

نمایاں کارنامے، فضائل و مناقب

الشریف الادریسی کا سب سے بڑا کارنامہ سسلی کے نارمن بادشاہ روجر ثانی کی دعوت پر وہاں جانا اور دنیا کا پہلا باقاعدہ سائنسی نقشہ تیار کرنا ہے۔ انہوں نے چاندی کے ایک بڑے کرہ (كرة فضية) پر دنیا کا تفصیلی نقشہ کندہ کیا، جس میں زمین کے گول ہونے کے نظریے کو عملی طور پر ثابت کیا۔ ان کی معرکہ آرا کتاب ‘نزهة المشتاق في اختراق الآفاق’ (جسے مغرب میں Tabula Rogeriana کہا جاتا ہے) قرونِ وسطیٰ کی سب سے جامع جغرافیائی تصنیف مانی جاتی ہے۔ انہوں نے یونانی جغرافیہ دان بطلیموس کی غلطیوں کی تصحیح کی اور دنیا کو مختلف منطقوں (Climes) میں تقسیم کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے علمِ طب اور نباتیات پر بھی گراں قدر کتاب ‘الجامع لأشتات النبات’ تصنیف کی، جس میں جڑی بوٹیوں کے خواص بیان کیے گئے ہیں۔

وصال مبارک اور تاریخی میراث

الشریف الادریسی کا وصال 560 ہجری (1165ء) کے لگ بھگ ہوا۔ ان کے جائے وصال کے بارے میں مؤرخین میں اختلاف ہے؛ بعض کا خیال ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں اپنے آبائی وطن سبتہ (مراکش) واپس آ گئے تھے اور وہیں مدفون ہوئے، جبکہ بعض کے نزدیک ان کا انتقال پالرمو (سسلی) میں ہوا۔ ان کی علمی میراث کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کولمبس اور واسکو ڈے گاما جیسے یورپی جہاز رانوں نے اپنے بحری سفروں میں الشریف الادریسی کے تیار کردہ نقشوں اور کتابوں سے رہنمائی حاصل کی تھی۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن خلدون (مقدمہ ابن خلدون، باب الجغرافیا)
  • صلاح الدین الصفدی (الوافی بالوفیات)
  • خیر الدین الزرکلی (الاعلام، جلد 7)
  • اسماعیل پاشا البغدادی (ہدیۃ العارفین فی اسماء المؤلفین)
  • ابو الفداء (تقویم البلدان)

مبارک اقوال و ارشادات

زمین ایک گیند (گول) کی طرح گول ہے، اور پانی قدرتی طور پر اس کے ارد گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہے اور اس سے جدا نہیں ہوتا۔

علمِ جغرافیا دراصل کائنات کے عجائب، خالق کی حکمت اور زمین کے مختلف رنگوں کو جاننے کا نام ہے۔

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ابو عبد اللہ محمد الادریسی (عظیم نقشہ ساز و جغرافیہ دان)

لقب و کنیت: ابو عبد اللہ، الشریف الادریسی، الصقلی، النسابہ، عظیم مسلم نقشہ ساز اور امام الجغرافیہ
قبیلہ: ادریسی سادات (حسنی علوی خاندان، جو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہے)
سن پیدائش و وفات: 493 ھ - 560 ھ / 1100ء - 1165ء (تقریباً)
مقام تدفین: سبتہ (مراکش) یا پالرمو (سسلی/اٹلی)
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com