Sahaba (صحابی)

عبد اللہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

خاندانی پس منظر اور لقب

حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ کا پورا نام عبد اللہ بن حارث بن جزء الزبیدی تھا۔ آپ کا تعلق یمن کے مشہور قبیلہ زبید سے تھا، جو قحطانی عربوں کی شاخ مذحج سے تعلق رکھتا ہے۔ "الزبیدی” کا لقب اسی قبیلے کی نسبت سے آپ کے نام کا حصہ بن گیا۔ آپ کے والد کا نام حارث اور دادا کا نام جزء تھا، جس سے آپ کی شناخت "ابن جزء” کے حوالے سے بھی کی جاتی ہے۔ آپ کی ابتدائی خاندانی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات میسر نہیں ہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ آپ کا تعلق ایک ایسے قبیلے سے تھا جو اپنی فصاحت و بلاغت اور شجاعت کے لیے مشہور تھا۔

ابتدائی زندگی اور قبولِ اسلام

حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ ان خوش نصیب افراد میں سے تھے جنہوں نے اسلام کی دعوت کے ابتدائی دور میں ہی اسے قبول کر لیا۔ آپ نے ہجرت نبوی ﷺ کے بعد مدینہ منورہ کا رخ کیا اور وہاں رسول اللہ ﷺ کی صحبت مبارکہ سے فیض یاب ہوئے۔ آپ ان جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہیں جنہوں نے خود نبی اکرم ﷺ سے احادیث سنی اور انہیں حفظ کیا۔ بعد ازاں، آپ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مصر کی فتح کے بعد وہاں ہجرت کر گئے اور وہیں رہائش اختیار فرمائی۔ آپ کو اہلِ مصر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شمار کیا جاتا ہے، اور آپ نے مصر میں دین کی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کیا۔

نمایاں کارنامے اور خدمات

حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ کا سب سے نمایاں کارنامہ احادیث نبوی ﷺ کی روایت اور ان کی ترویج ہے۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے براہ راست کئی احادیث سنیں اور انہیں آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔ آپ کی روایت کردہ احادیث صحیح مسلم، سنن ترمذی، سنن ابی داؤد اور سنن ابن ماجہ سمیت دیگر کئی مستند کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مصر میں دین کی خدمت اور علم کی تعلیم و ترویج میں صرف کیا، جہاں آپ کے گرد علم کے پیاسے جمع ہوتے تھے اور آپ سے رسول اللہ ﷺ کے فرامین سنتے تھے۔ آپ کی تعلیمات نے مصر میں اسلامی علم کی بنیادیں مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی زندگی تقویٰ، پرہیزگاری اور علمی شغف کا حسین امتزاج تھی۔

میراث اور وصال

حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی عمر کا آخری حصہ مصر میں گزارا۔ آپ کا وصال بھی وہیں ہوا۔ مؤرخین کے مطابق، آپ کا انتقال امیر المؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوا، بعض روایات کے مطابق 62 ہجری یا 63 ہجری میں آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دین کی خدمت اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو محفوظ رکھنے میں صرف کیا، اور یوں آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم علمی میراث چھوڑی۔ آپ سے روایت کرنے والے کئی تابعین موجود ہیں جنہوں نے آپ سے حدیث کا علم حاصل کیا اور اسے آگے پہنچایا، جس سے آپ کے علمی مقام اور آپ کی خدمات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آپ کی وفات ایک جلیل القدر صحابی اور علم کے سمندر کا اختتام تھی، لیکن آپ کی روایات اور خدمات کا ثمر آج بھی اہل ایمان کے لیے مشعل راہ ہے۔

مستند حوالہ جات

  • ابن سعد، محمد بن سعد الزہری: الطبقات الکبریٰ، ج 7، ص 506۔
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبد اللہ: الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ج 3، ص 918۔
  • ابن اثیر، علی بن محمد الجزری: اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، ج 3، ص 209-210۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی: الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج 4، ص 164-165۔
  • ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد: سیر اعلام النبلاء، ج 3، ص 489-490۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر: البدایۃ والنھایۃ، ج 8، ص 209 (وفیات 62 ھ کے تحت)۔
  • مزی، جمال الدین یوسف بن عبدالرحمن: تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، ج 14، ص 316-318۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں تذکرہ و روایات

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

عبد اللہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ

اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com