تاریخی پس منظر اور اسباب
صلحِ حدیبیہ اسلامی تاریخ کا ایک ایسا سنگِ میل ہے جسے قرآنِ مجید نے ‘فتحِ مبین’ (کھلی فتح) کے لقب سے نوازا ہے۔ ہجرت کے چھٹے سال، رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ میں داخل ہو رہے ہیں اور بیت اللہ کا طواف فرما رہے ہیں۔ چونکہ انبیاء کا خواب وحی الٰہی ہوتا ہے، اس لیے آپ ﷺ نے عمرہ کی ادائیگی کا پختہ عزم فرمایا۔ ذی القعدہ 6 ہجری میں آپ ﷺ نے 1400 سے زائد جاں نثار صحابہ کے ہمراہ مدینہ منورہ سے مکہ کی طرف رختِ سفر باندھا۔
مشرکینِ مکہ کی جارحیت اور پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے جنگی تیاریاں نہیں کیں، بلکہ صحابہ کرام کو صرف مسافرانہ ہتھیار (تلواریں جو نیام میں ہوں) لانے کی اجازت دی اور ذوالحلیفہ کے مقام پر پہنچ کر عمرہ کا احرام باندھا اور قربانی کے جانور ساتھ لیے، تاکہ کفار پر واضح ہو جائے کہ مسلمانوں کا مقصد صرف اور صرف عبادت اور پرامن زیارت ہے، جنگ یا خوں ریزی نہیں۔
لشکرِ اسلام کی روانگی اور تزویراتی حکمتِ عملی
جب قریشِ مکہ کو مسلمانوں کی آمد کی اطلاع ملی، تو ان کی انا اور جاہلیت ابھر آئی۔ انہوں نے مکہ میں ہنگامی دفاعی اجلاس بلایا اور فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو کسی صورت مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے خالد بن ولید (جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے) کی قیادت میں 200 گھڑ سواروں کا ایک دستہ مروالظہران کی طرف پیش قدمی کے لیے روانہ کیا تاکہ مسلمانوں کا راستہ روکا جا سکے۔
رسول اللہ ﷺ کو اپنے سراغ رسانوں (بشمول بشر بن سفیان الخزاعی) کے ذریعے جب قریش کے ان جنگی عزائم کی خبر ملی، تو آپ ﷺ نے غیر معمولی تزویراتی دور اندیشی کا مظاہرہ کیا۔ آپ ﷺ نے مروجہ راستے کو چھوڑ کر ایک انتہائی دشوار گزار، پتھریلی اور پہاڑی پگڈنڈی کا انتخاب کیا تاکہ قریش کے ہراول دستے سے تصادم سے بچا جا سکے۔ یہ سفر طے کرتے ہوئے جب لشکرِ اسلام حدیبیہ کے میدان میں پہنچا، تو آپ ﷺ کی اونٹنی ‘قصواء’ اچانک بیٹھ گئی۔ صحابہ نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اسے کسی نے نہیں روکا، بلکہ اسے اسی ذات نے روک لیا ہے جس نے ہاتھی والوں (اصحابِ فیل) کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا تھا”۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اسی مقام پر قیام کا حکم دیا۔
بیعتِ رضوان: موت پر بیعت اور ایمانی امتحان
حدیبیہ کے مقام پر پہنچنے کے بعد، سفارتی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ قریش نے یکے بعد دیگرے کئی سفراء بھیجے جن میں بدیل بن ورقاء الخزاعی، مکرز بن حفص اور عروہ بن مسعود الثقفی شامل تھے۔ عروہ بن مسعود نے جب مدینہ کے لشکر کا مشاہدہ کیا تو مکہ واپس جا کر قریش سے کہا: "اے قوم! واللہ میں قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے درباروں میں گیا ہوں، لیکن میں نے کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کے درباری اس کی اس طرح تعظیم کرتے ہوں جیسے محمد (ﷺ) کے اصحاب ان کی تعظیم کرتے ہیں”۔
مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اپنا خصوصی سفیر بنا کر مکہ روانہ کیا۔ سیدنا عثمان غنی نے مکہ پہنچ کر قریش کے سرداروں کو اسلام کا پیغام دیا اور واضح کیا کہ ہم صرف عمرہ کے لیے آئے ہیں۔ قریش نے عثمان غنی کو پیشکش کی کہ اگر وہ چاہیں تو اکیلے طواف کر سکتے ہیں، لیکن انہوں نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: "میں رسول اللہ ﷺ کے بغیر ہرگز طواف نہیں کر سکتا”۔ قریش نے اس پر سیدنا عثمان کو عارضی طور پر حراست میں لے لیا۔
اس دوران حدیبیہ کے پڑاؤ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے۔ یہ خبر مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک کیکر (سمرہ) کے درخت کے نیچے صحابہ کرام سے ایک تاریخی عہد لیا کہ وہ میدانِ جنگ سے پیٹھ نہیں پھیریں گے اور خونِ عثمان کا قصاص لینے کے لیے جان کی بازی لگا دیں گے۔ اس بیعت کو ‘بیعتِ رضوان’ کہا جاتا ہے، جس کی صداقت اور عظمت کا گواہ خود اللہ تعالیٰ بنا اور قرآن میں ان جان نثاروں کے لیے اپنی رضا کا اعلان فرمایا۔
معاہدۂ حدیبیہ اور اس کی دفعات
جب قریش کو بیعتِ رضوان کی خبر ملی، تو وہ خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے سیدنا عثمان کو رہا کر دیا اور مذاکرات کے لیے اپنے سب سے چابکدست سفیر سہیل بن عمرو کو روانہ کیا۔ طویل بحث و تکرار کے بعد، امن قائم کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پایا۔ رسول اللہ ﷺ کی عظیم سیاسی اور تزویراتی بصیرت کے تحت درج ذیل شرائط پر اتفاق ہوا:
- مسلمان اس سال عمرہ کیے بغیر واپس جائیں گے اور اگلے سال آئیں گے، اور صرف تین دن مکہ میں قیام کریں گے۔
- فریقین کے درمیان 10 سال تک جنگ بند رہے گی اور لوگ امن و امان کے ساتھ رہیں گے۔
- قریش کا کوئی شخص (چاہے وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو) اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر مدینہ جائے گا تو اسے واپس کرنا ہوگا، لیکن اگر کوئی مسلمان مدینہ سے مکہ بھاگ کر آئے گا تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔
- عرب کا کوئی بھی قبیلہ مسلمانوں یا قریش میں سے کسی کے بھی ساتھ اتحاد کرنے کے لیے آزاد ہوگا۔ (اس کے تحت بنو خزاعہ مسلمانوں کے حلیف بن گئے اور بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے)۔
معاہدے کے تحریر کے وقت، جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ‘بسم اللہ الرحمن الرحیم’ اور ‘محمد رسول اللہ’ لکھنے کو کہا، تو سہیل بن عمرو نے اعتراض کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے امت کے وسیع تر مفاد اور صلح کی خاطر کمالِ عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مبارک ہاتھ سے ‘رسول اللہ’ کا لفظ مٹا کر ‘محمد بن عبداللہ’ لکھنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر ابوجندل رضی اللہ عنہ جو مکہ کی قید سے بھاگ کر زنجیروں سمیت وہاں پہنچے تھے، انہیں معاہدے کی رو سے بوجھل دل کے ساتھ واپس مشرکین کے حوالے کرنا پڑا، جو کہ مسلمانوں کے لیے نفسیاتی طور پر انتہائی کٹھن لمحہ تھا۔
صلح کے تزویراتی اثرات اور فوائد
ظاہری طور پر یہ معاہدہ مسلمانوں کے خلاف اور دباؤ کا نتیجہ دکھائی دیتا تھا، حتیٰ کہ بعض جلیل القدر صحابہ جیسے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی اس پر سخت بے چین تھے، لیکن جلد ہی الٰہی وحی نے واضح کر دیا کہ یہ شکست نہیں بلکہ ‘فتحِ مبین’ ہے۔ اس معاہدے کے دور رس تزویراتی اثرات درج ذیل ہیں:
- سیاسی اعتراف: قریشِ مکہ نے پہلی بار مدینہ کی اسلامی ریاست کو ایک برابر کی سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کیا۔
- دعوتِ اسلام کی اشاعت: جنگی خطرات ٹل جانے کے بعد مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین میل جول بڑھا۔ مکہ اور مدینہ کے درمیان آزادانہ آمد و رفت شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں صرف دو سال کے عرصے میں اتنے لوگ دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے جتنے پچھلے 19 سالوں میں نہیں ہوئے تھے (جن میں خالد بن ولید، عمرو بن العاص اور عثمان بن طلحہ جیسے جری جرنیل شامل ہیں)۔
- محاذِ جنگ کی یکسوئی: مکہ کی طرف سے امن ملنے کے بعد، رسول اللہ ﷺ نے شمالی سرحدوں پر توجہ مرکوز کی اور یہودیوں کے گڑھ ‘خیبر’ کو فتح کر کے مدینہ کو بیرونی سازشوں سے ہمیشہ کے لیے پاک کر دیا۔
- فتحِ مکہ کی راہ ہموار ہونا: یہی صلحِ حدیبیہ دو سال بعد قریش کی عہد شکنی کے باعث رمضان 8 ہجری میں مکہ مکرمہ کی پرامن اور عظیم الشان فتح کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح کی پہلی ہی آیت میں ارشاد فرمایا:
"إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا” (بیشک ہم نے آپ کے لیے ایک کھلی فتح کا فیصلہ فرما دیا)۔
بیعتِ رضوان میں حصہ لینے والے صحابہ کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"لَّقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ” (یقیناً اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے)۔
حدیبیہ کا واقعہ مسلمانوں کو یہ سبق سکھاتا ہے کہ بعض اوقات ظاہری مصلحت اور وقتی پسپائی، مستقبل کی عظیم الشان تزویراتی فتوحات کی ضامن ہوتی ہے۔ اطاعتِ رسول ﷺ اور صبر و استقامت ہی وہ کلیدیں ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ بند گلیوں کو بھی فتوحات کے وسیع میدانوں میں تبدیل فرما دیتا ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق (السيرة النبوية)
- ابن ہشام (السيرة النبوية، باب غزوة الحديبيّة)
- ابن کثیر (البداية والنهاية، جلد 4)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ، ذکر صلح الحدیبیہ)
- امام بخاری (صحيح البخاري، كتاب الشروط، باب الشروط في الجهاد والمصالحة)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ الفتح (آیات 1 تا 4، 18، 20 اور 24 سے 27)
