تاریخی پس منظر اور صلح کے اسباب
رمضان المبارک ۴۰ ہجری میں خلیفہ چہارم سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہادت کے بعد، اہل کوفہ اور عراق کے مسلمانوں نے سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی۔ دوسری طرف شام میں امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی مستقل حکومت قائم تھی اور فریقین کے درمیان گزشتہ چند سالوں سے شدید سیاسی و عسکری تناؤ چلا آ رہا تھا جسے جنگ صفین کی شکل میں دیکھا جا چکا تھا۔ امام حسن رضی اللہ عنہ نے مسندِ خلافت سنبھالتے ہی محسوس کر لیا تھا کہ امتِ مسلمہ مزید خونریزی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ عراقی فوج کے اندرونی انتشار، منافقین کی ریشہ دوانیوں اور خوارج کی فتنہ انگیزیوں نے امام حسن کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ امتِ محمدیہ کے تحفظ اور بقا کے لیے ایک تاریخی اور جرات مندانہ فیصلہ کریں۔
لشکروں کی روانگی اور عسکری صف بندی
امیر معاویہ نے خلافتِ عراق کے خلاف ایک عظیم الشان شامی لشکر تیار کر کے مدائن اور عراق کی طرف کوچ کا حکم دیا۔ دوسری جانب، امام حسن رضی اللہ عنہ بھی مجبوراً ایک عراقی لشکر کے ساتھ کوفہ سے روانہ ہوئے اور ‘مسکن’ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی عبید اللہ بن عباس اور نامور انصاری صحابی قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کی قیادت میں بارہ ہزار کا ایک ہراول دستہ (Vanguard) آگے بھیجا۔ شامی اور عراقی لشکر آمنے سامنے آ گئے اور ایک بڑے معرکے کی فضا قائم ہو گئی۔ لیکن امام حسن کے دل میں امتِ مسلمہ کے خون کی قیمت بہت زیادہ تھی، وہ کسی صورت مسلمانوں کے مابین جنگ کے حق میں نہیں تھے۔ انہوں نے ابتدا ہی سے خونریزی روکنے کے لیے پسِ پردہ سفارت کاری شروع کر دی تھی۔
مذاکرات اور شرائطِ صلح
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے صلح کی پیشکش کی اور دو جلیل القدر سفیر عبد اللہ بن عامر اور عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہما کو امام حسن کے پاس بھیجا۔ امام حسن نے عسکری برتری کے باوجود محض امنِ امت کے قیام کے لیے خلافت سے دستبردار ہونے اور چند اہم شرائط پر مصالحت کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔ ان شرائط میں درج ذیل نکات سرفہرست تھے:
۱۔ خلافت قرآن و سنت اور سیرتِ خلفائے راشدین کے مطابق چلائی جائے گی۔
۲۔ امیر معاویہ کے بعد خلافت کا معاملہ مسلمانوں کی شوریٰ یا امام حسن (اور ان کے بعد امام حسین) کے سپرد ہوگا۔
۳۔ عراق، حجاز اور شام کے تمام لوگوں کو مکمل امان حاصل ہوگی اور ماضی کی جنگوں کے انتقام سے درگزر کیا جائے گا۔
۴۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اصحاب اور شیعہ (مددگاروں) کی جان، مال اور آبرو محفوظ رہے گی۔
۵۔ بیت المال (یا خراج کے کچھ حصے) سے امام حسن اور اہل بیت کے لیے باوقار وظائف مقرر کیے جائیں گے۔
عام الجماعۃ (اتحاد کا سال) کا قیام اور ثمرات
ربیع الاول ۴۱ ہجری میں یہ تاریخی صلح نامہ طے پا گیا اور امام حسن رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے۔ انہوں نے جامع مسجد کوفہ میں ایک عظیم الشان خطبہ دیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اقتدار کی ہوس یا کمزوری کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض امت کے باہمی اتحاد، بقا اور امن کے لیے کیا ہے۔ اس سال کو اسلامی تاریخ میں ‘عام الجماعۃ’ (Year of Unity / یکجہتی کا سال) کا نام دیا گیا۔ اس صلح کے نتیجے میں مسلمانوں کے مابین پانچ سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا، اندرونی فتنوں کا قلع قمع ہوا اور اسلامی فتوحات کا سلسلہ، جو تعطل کا شکار ہو چکا تھا، دوبارہ شروع ہو گیا۔ امام حسن نے اس عظیم ایثار کے ذریعے تاریخِ اسلام پر مہرِ تابان کی طرح چمکتا ہوا نقش چھوڑا۔
قرآنی ارشادات، احادیثِ نبوی اور ایمانی اسباق
اس صلحِ عظیم کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں ہی فرما دیا تھا۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق، آپ ﷺ نے منبر پر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا: ‘میرا یہ بیٹا سردار (سید) ہے، اور یقیناً اللہ عزوجل اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروائے گا’۔ یہ صلح قرآنِ کریم کی اس ہدایت کے عین مطابق تھی جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ‘اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کروا دو’ (سورۃ الحجرات: ۹)۔ اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ امتِ مسلمہ کا اتحاد، انفرادی منصب و اقتدار سے بدرجہا بہتر اور افضل ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر (البداية والنهاية)
- ابن سعد (الطبقات الکبریٰ)
- ابن الاثیر (الکامل فی التاریخ)
- الطبرانی (المعجم الکبیر)
- ابو جعفر الطبری (تاریخ الرسل والملوک)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ الانفال آیت ۶۱ (صلح پسندی کی ترغیب) اور سورۃ الحجرات آیت ۹ (مسلمانوں کے مابین صلح کا حکم)
