تاریخی پس منظر اور اسباب
فتنہ باطنیہ، جسے تاریخ میں "حشاشین” یا "نزاری اسماعیلی” کے نام سے جانا جاتا ہے، پانچویں صدی ہجری کے اواخر میں حسن بن صباح کی قیادت میں پروان چڑھا۔ انہوں نے قزوین کے پہاڑوں میں واقع قلعہ الموت کو اپنا مرکز بنایا۔ باطنیوں کا سب سے بڑا ہتھیار خفیہ قتل و غارت گری (Assassinations) تھا۔ انہوں نے عالمِ اسلام کے مایہ ناز عباسی و سلجوقی وزراء، علماء اور مجاہدین بشمول خواجہ نظام الملک طوسی کو شہید کیا۔ ان کی ریشہ دوانیوں اور مکارانہ عقائد نے ملتِ اسلامیہ کے جسدِ واحد کو شدید نقصان پہنچایا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ پر بھی انہوں نے متعدد قاتلانہ حملے کیے۔ منگولوں کے حملے کے وقت، باطنیوں کی یہ سلطنتِ خوف عالمِ اسلام کے لیے ایک ناسور بن چکی تھی، جس کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا تھا۔
لشکروں کی روانگی اور صف بندی
سقوطِ بغداد سے قبل، منگول فاتح ہلاکو خان جب ایران کی طرف بڑھا، تو اس کا پہلا اور سب سے بڑا ہدف باطنیہ کے قلعے تھے۔ باطنیوں نے کوہ البرز کے ناقابلِ تسخیر پہاڑوں پر درجنوں قلعے بنا رکھے تھے جن میں قلعہ الموت، قلعہ میمون دژ اور قلعہ لمسر شامل تھے۔ ہلاکو خان نے ایک کثیر لشکر کے ساتھ ان قلعوں کا محاصرہ شروع کیا۔ مغل لشکر میں منجنیقوں اور بارودی ماہرین کا ایک بڑا دستہ شامل تھا۔ دوسری طرف، باطنیہ کا آخری سربراہ رکن الدین خورشاہ قلعہ میمون دژ میں پناہ گزیں تھا اور اس کے فدائی جنگجو قلعوں کی فصیلوں سے مدافعت کے لیے تیار کھڑے تھے۔ مسلم دنیا بھی اس معرکہ کو گہری نظر سے دیکھ رہی تھی کیونکہ باطنی فتنہ کا خاتمہ خود مسلمانوں کے مفاد میں تھا۔
معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ
اگرچہ یہ معرکہ عہدِ صحابہ کے صدیوں بعد پیش آیا، لیکن اس میں حق و باطل کا وہی معرکہ کارفرما تھا جس کی بنیاد صحابہ کرام نے رکھی تھی۔ امتِ مسلمہ کے جلیل القدر علماء اور مورخین (جیسے عطاء ملک جوینی جو خود اس مہم میں ہلاکو خان کے ساتھ تھے) نے اس فتح کو اللہ کی غیبی تائید قرار دیا۔ منگولوں نے جدید منجنیقوں کی مدد سے قلعہ میمون دژ پر پتھروں اور آگ کے گولوں کی بارش کر دی۔ باطنی جنگجوؤں کی تمام چالیں ناکام ہو گئیں اور ان کے دلوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ رکن الدین خورشاہ نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ نومبر 1256ء میں خورشاہ قلعے سے نیچے اترا اور ہلاکو خان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا۔ اس کے بعد، قلعہ الموت کے باطنی کمانڈروں کو بھی ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا گیا، اور یوں وہ قلعہ جسے صدیوں تک ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا، بغیر کسی بڑی خونریزی کے مسخر ہو گیا۔
شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات
اس تاریخی معرکے کے تزویراتی اثرات انتہائی دور رس تھے۔ قلعہ الموت کی فتح کے بعد ہلاکو خان نے حکم دیا کہ باطنیہ کے تمام قلعوں کو زمین بوس کر دیا جائے۔ مغل سپاہیوں نے قلعہ الموت کی مضبوط فصیلوں کو توڑ ڈالا اور اسے مٹی کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔ مورخ عطاء ملک جوینی نے ہلاکو خان سے اجازت لے کر قلعہ الموت کے مشہور کتب خانے کا معائنہ کیا، جہاں سے انہوں نے قرآن کریم کے نایاب نسخے اور علمی کتب محفوظ کیں اور باطنی کفر و الحاد پر مبنی لٹریچر کو نذرِ آتش کر دیا۔ باطنیوں کی وہ سلطنتِ دہشت جو پونے دو سو سال سے قائم تھی، ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور مسلم دنیا نے سکھ کا سانس لیا۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
عالمِ اسلام کے ائمہ اور تاریخ دانوں نے اس واقعے کو اللہ تعالیٰ کی اس سنت کا مظہر قرار دیا جس کے تحت باطل کو بالاخر مٹنا ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل کان زھوقا” (حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے)۔ اس واقعے سے یہ ایمانی سبق ملتا ہے کہ جو گروہ دینِ اسلام میں تحریف، خفیہ سازشوں اور بے گناہ مسلمانوں کے خون پر اپنی بقا قائم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی سرکوبی کے لیے ایسے اسباب پیدا فرما دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔ باطنیہ کا خاتمہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کا دفاع صرف بیرونی دشمنوں سے ہی نہیں، بلکہ اندرونی فتنوں اور غالی گروہوں سے بھی ناگزیر ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن کثیر (البدایہ والنہایہ، جلد 13)
- عطاء ملک جوینی (تاریخِ جہاں گشا)
- ابن اثیر (الکامل فی التاریخ)
- رشید الدین فضل اللہ ہمدانی (جامع التواریخ)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورۃ الاسراء، آیت 81: "وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا" (عمومی انطباق برائے زوالِ باطل و الحاد)
