تاریخی پس منظر اور سفارتی اسباب
نجران حجاز اور یمن کے درمیان واقع ایک انتہائی زرخیز، خوشحال اور تزویراتی اہمیت کا حامل علاقہ تھا، جو اس وقت عیسائیت کا سب سے بڑا گڑھ اور مذہبی مرکز مانا جاتا تھا۔ فتحِ مکہ اور غزوۂ تبوک کے بعد، جب اسلام جزیرہ نما عرب کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرا، تو رسول اللہ ﷺ نے نجران کے اسقفِ اعظم (بشپ) اور وہاں کے حکمرانوں کو خطوط لکھے، جس میں انہیں اسلام قبول کرنے، جزیہ ادا کرنے یا پھر جنگ کے لیے تیار رہنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس خط کے موصول ہونے پر عیسائی رہنماؤں نے باہمی مشاورت کی اور جنگ کے بجائے مدینہ منورہ جا کر براہِ راست گفت و شنید کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مسلمانوں کے عقائد اور ان کی عسکری و سیاسی طاقت کا خود مشاہدہ کیا جا سکے۔
وفدِ نجران کی مدینہ آمد اور علمی مکالمہ
نجران کے عیسائیوں کا یہ وفد 60 سواروں پر مشتمل تھا، جس کی قیادت ان کے تین بڑے سردار کر رہے تھے: ‘عاقب’ (سیاسی امور کا نگران)، ‘سید’ (انتظامی امور کا سربراہ)، اور ‘ابو حارثہ بن علقمہ’ (جو نجران کا سب سے بڑا اسقف، عالم اور قیصرِ روم کا مقرب تھا)۔ یہ وفد انتہائی قیمتی اور ریشمی لباس پہن کر مسجدِ نبوی میں داخل ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں مسجد کے ایک حصے میں اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دی، جو اسلامی رواداری کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس کے بعد عیسائی علماء اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت اور ان کے مقام و مرتبہ پر تفصیلی علمی مکالمہ شروع ہوا۔ عیسائیوں نے اپنے روایتی عقائد پر اصرار کیا، جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورہ آلِ عمران کی آیات نازل فرمائیں، جن میں واضح کیا گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے جنہیں مٹی سے پیدا کیا گیا۔
دعوتِ مباہلہ اور عیسائیوں کا خوف
جب عیسائی وفد نے حق واضح ہونے کے باوجود ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور دلائل تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، تو اللہ تعالیٰ کے حکم پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں ‘مباہلہ’ کا چیلنج دیا (کہ دونوں فریقین اپنے بیٹوں، عورتوں اور جانوں کو لے کر میدان میں آئیں اور جھوٹے پر اللہ کی لعنت اور عذاب کی دعا کریں)۔ اگلی صبح، رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰ، سیدہ فاطمہ الزہراء، اور حسنینِ کریمین (سیدنا حسن و حسین) علیہم السلام کو لے کر میدانِ مباہلہ میں تشریف لائے۔ رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا جلال اور اس پاکیزہ گروہ (پنجتنِ پاک) کو دیکھ کر عیسائیوں کا سردار اور اسقفِ اعظم ابو حارثہ کانپ اٹھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا: "خدا کی قسم! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ خدا سے پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کی دعا کریں تو وہ بھی ہٹ جائے گا، ان سے مباہلہ ہرگز نہ کرو ورنہ روئے زمین پر کوئی ایک عیسائی بھی زندہ نہیں بچے گا۔”
میثاقِ نجران کے تفصیلی شرائط اور سیاسی اثرات
مباہلہ سے دستبردار ہونے کے بعد، عیسائی وفد نے عاجزی اختیار کی اور رسول اللہ ﷺ سے صلح کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے ان کی درخواست قبول فرمائی اور تاریخ کا پہلا تحریری امان نامہ اور میثاق طے پایا، جس کی اہم دفعات درج ذیل تھیں:
- اہلِ نجران سالانہ دو ہزار حلے (ریشمی لباس یا چادریں) جزیہ کے طور پر ادا کریں گے، آدھے رجب میں اور آدھے صفر میں۔
- سفارتی تبادلے کے دوران مدینہ سے جانے والے قاصدین کی مہمانی اور عسکری امداد کی ضرورت کے وقت گھوڑوں اور ہتھیاروں کی عاریت دی جائے گی۔
- اہلِ نجران کے گرجا گھروں، ان کی خانقاہوں اور ان کی مذہبی آزادی کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔
- ان کے کسی پادری، اسقف یا راہب کو ان کے عہدوں سے برطرف نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی املاک پر قبضہ کیا جائے گا۔
- ان کے حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ (سیکیورٹی) پر ہوگی، جب تک وہ وفادار رہیں گے۔
اس معاہدے کو لکھنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے نجران والوں کے مطالبے پر سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو امین بنا کر ان کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ جزیہ وصول کریں اور ان کے باہمی تنازعات کا فیصلہ عدل کے ساتھ کریں۔
قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق
اس واقعے کے تناظر میں نازل ہونے والی سورہ آلِ عمران کی آیت 61 (آیتِ مباہلہ) رہتی دنیا تک رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور آپ کے اہل بیتِ اطہار کی عظمت و منزلت کی دلیل بن گئی۔ اس واقعے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام علمی مکالمے، بین المذاہب رواداری اور پرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ غیر مسلموں کو مسجدِ نبوی میں عبادت کی اجازت دینا اور ان کے حقوق و جان و مال کا تحفظ کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو کس قدر وسیع حقوق اور امان حاصل ہے۔
مستند تاریخی حوالہ جات
- ابن اسحاق، السيرة النبوية (کتاب الوفود)
- ابن ہشام، السيرة النبوية (جلد 1، وفد نصارى نجران)
- ابن کثیر، البداية والنهاية (جلد 5، ذکرِ وفدِ نجران)
- امام بخاری، صحیح البخاری (کتاب المغازی، باب قصۃ اھل نجران)
- ابن سعد، الطبقات الکبریٰ (ذکر السفارات والوفود)
قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات
📖 متعلقہ سورتیں و آیات:
سورہ آلِ عمران، آیات 59 تا 64 (خصوصاً آیتِ مباہلہ: آیت 61)
