معارک و فتوحاتِ خلافت راشدہ

معرکہ یرموک (۱۳ ہجری)

« رجب ۱۵ ہجری (بمطابق اگست ۶۳۶ء) / بعض روایات کے مطابق ۱۳ ہجری »
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

تاریخی پس منظر اور اسباب

معرکہ یرموک اسلامی تاریخ کے اہم ترین اور فیصلہ کن ترین معرکوں میں سے ایک ہے جس نے مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا کی تاریخ کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ خلافتِ راشدہ کے دورِ مسعود میں، جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی فتوحات کا آغاز کیا، تو اسلامی لشکروں نے یکے بعد دیگرے کئی اہم شہر فتح کیے۔ رومی سلطنت کے زوال اور پے در پے شکستوں سے بوکھلا کر بازنطینی قیصرِ روم (ہرقل) نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کے خلاف ایک حتمی اور فیصلہ کن جنگ لڑی جائے۔ اس نے سلطنت کے طول و عرض سے ایک عظیم الشان لشکر جرار اکٹھا کیا، جس کا مقصد مسلمانوں کو شام کی سرزمین سے ہمیشہ کے لیے بے دخل کرنا تھا۔ اس نازک صورتحال کو بھانپتے ہوئے، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں تمام اسلامی دستے وادیِ یرموک میں یکجا ہو گئے تاکہ کفر کی اس یلغار کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔

لشکروں کی روانگی اور صف بندی

میدانِ یرموک جغرافیائی اعتبار سے انتہائی سٹریٹجک مقام تھا۔ اس کے ایک طرف واقوصہ کی گہری کھائی اور دریا بہتا تھا جو دفاعی نقطہ نظر سے انتہائی اہم تھا۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی بے مثال عسکری بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے اسلامی لشکر کو چالیس دستوں (کردوس) میں تقسیم کیا۔ یہ عرب کی روایتی صف بندی سے ہٹ کر ایک جدید اور انتہائی مؤثر رومی عسکری ترتیب کی طرح کی صف بندی تھی، جس سے مسلمانوں کی قلیل تعداد بھی دشمن کے سامنے فولادی دیوار بن گئی۔ لشکر کے قلب کی قیادت سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے سپرد تھی، جبکہ دائیں بازو پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور بائیں بازو پر سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ متعین تھے۔ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ خود موبائل کیولری (تیز رفتار سوار دستے) کی قیادت سنبھالے ہوئے تھے جو جنگ کے دوران کسی بھی کمزور پڑتے ہوئے حصے کی فوری مدد کے لیے تیار تھی۔

معرکہ کے تفصیلی احوال و شجاعتِ صحابہ

یہ جنگ مسلسل چھ دن تک جاری رہی۔ ہر دن رومیوں نے اپنی عددی برتری کے زعم میں شدید حملے کیے، لیکن مجاہدینِ اسلام کے پائے استقلال میں لرزش نہ آئی۔ چوتھے دن رومی تیر اندازوں نے مجاہدین کی آنکھوں کو نشانہ بنا کر شدید ترین حملہ کیا، جس کی وجہ سے اس دن کو ‘یوم العیون’ (آنکھوں کا دن) کہا جاتا ہے، جہاں کئی صحابہ کرام نے اپنی بینائی کی قربانی دی۔ اس بحرانی کیفیت میں سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور پکارا: ‘موت پر کون میرے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے؟’ ان کے ساتھ ان کے جانثاروں نے بیعت کی اور دشمن کی صفوں میں گھس کر وہ بے مثال شجاعت دکھائی جس نے رومیوں کے دل دہلا دیے۔ رومیوں کی پسپائی شروع ہوئی تو مسلم خواتین، جن میں سیدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نمایاں تھیں، نے لشکر کے پیچھے کھڑے ہو کر پیچھے ہٹنے والے مجاہدین کی ہمت بندھائی اور انہیں دوبارہ میدانِ کارزار کی طرف بھیجا۔ چھٹے دن، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے رومیوں کے گھڑ سواروں کو پیادہ فوج سے الگ کر دیا اور ایک ایسا بھرپور جوابی حملہ کیا جس سے رومیوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ واقوصہ کی گہری کھائیوں میں گرنے لگے۔

شہدائے اسلام اور فتح کے تزویراتی اثرات

اس عظیم معرکے میں مسلمانوں کے تقریباً تین سے چار ہزار مجاہدین نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان شہداء میں تاریخِ اسلام کی نامور شخصیات شامل تھیں جنہوں نے اسلام کی بقا اور سربلندی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ رومیوں کا جانی نقصان بے پناہ تھا، تقریباً اسی ہزار سے ایک لاکھ کے قریب رومی فوجی ہلاک اور غرق ہوئے۔ اس معرکے کے تزویراتی (Strategic) اثرات انتہائی گہرے تھے۔ قیصرِ روم ہرقل مایوس ہو کر شام سے قسطنطنیہ فرار ہو گیا اور اس نے حسرت سے کہا: ‘اے شام! تجھ پر سلام ہو، اب تو دشمن کے لیے ایک بہترین چراگاہ ہے!’ اس فتح کے نتیجے میں پورے ملکِ شام کا دروازہ مسلمانوں کے لیے کھل گیا، اور کچھ ہی عرصے بعد بیت المقدس اور دمشق بھی مکمل طور پر اسلامی قلمرو میں شامل ہو گئے۔

قرآنی ارشادات اور ایمانی اسباق

معرکہ یرموک اس قرآنی سچائی کا زندہ ثبوت ہے کہ کامیابی محض مادی وسائل اور عددی برتری سے نہیں بلکہ ایمان کی پختگی، توکل علی اللہ اور باہمی اتحاد سے حاصل ہوتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ‘کَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ’ (ترجمہ: بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آ گیا، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)۔ مجاہدینِ یرموک نے جس صبر، ایثار اور شوقِ شہادت کا مظاہرہ کیا، وہ رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جنگ کے دوران زخمیوں کا ایک دوسرے کو پانی پر ترجیح دینا اور پیاسا ہی جامِ شہادت نوش کر جانا ایثار کی وہ اعلیٰ ترین مثال ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔

مستند تاریخی حوالہ جات

  • ابن کثیر، البداية والنهاية (جلد ہفتم، ذکرِ معرکہ یرموک)
  • ابن جریر الطبری، تاريخ الرسل والملوک (واقعاتِ ۱۵ ہجری)
  • الواقدی، فتوح الشام (میدانِ یرموک کے احوال)
  • ابن سعد، الطبقات الکبریٰ (احوالِ صحابہ کرام غزوۂ یرموک میں)
  • ابن اثیر الجزری، الکامل فی التاریخ

قرآن مجید میں تذکرہ و حوالہ جات

📖 متعلقہ سورتیں و آیات:

سورۃ البقرہ، آیت ۲۴۹ (كَم مِّن فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ)

غزوہ و معرکہ سے متعلق احادیثِ نبوی ﷺ

یہ احادیث ہمارے مستند ذخیرہ کتب ستہ سے تلاش کر کے منسلک کی گئی ہیں:

🏷️ متعلقہ موضوعات و سرچ ٹیگز (Trending Topics):
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

معرکہ یرموک (۱۳ ہجری)

تاریخ و سن ہجری: رجب ۱۵ ہجری (بمطابق اگست ۶۳۶ء) / بعض روایات کے مطابق ۱۳ ہجری
میدانِ جنگ: میدانِ یرموک، وادی یرموک (موجودہ اردن و شام کی سرحد کے قریب)
لشکرِ اسلام: تقریباً 40,000 مجاہدین اسلام (جن میں 1,000 صحابہ کرام اور 100 بدری صحابہ شامل تھے)
لشکرِ اعداء: تقریباً 150,000 سے 240,000 مسلح رومی (بازنطینی) فوج
نتیجہ: اسلام کی عظیم الشان اور تاریخ ساز فیصلہ کن فتح؛ شام سے بازنطینی تسلط کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ۔
اردو کووریج دائرۃ المعارف اسلامی | urducoverage.com